کراچی کے علاقے پوش علاقے کلفٹن میں واقع نہرِ خیام پر تجارتی پٹی اور مبینہ فوڈ اسٹریٹ کی تعمیر کے خلاف ماہرین ماحولیات اور شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے جاری تعمیراتی کام فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں مختلف شہری تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل مظاہرین نے تعمیراتی مقام پر پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی، نہرِ خیام پر فوڈ اسٹریٹ کی مخالفت، منصوبے کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے اور آبی گزرگاہوں کو محفوظ بنانے کے مطالبات درج تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں سمندر سے اٹھنے والی بدبو نے شہریوں کو پریشان کردیا
مظاہرین کا کہنا تھا کہ نہرِ خیام کراچی کے نکاسی آب کے نظام اور سمندری ماحولیاتی توازن کا اہم حصہ ہے، اس لیے اس کے قدرتی بہاؤ، کھلے کناروں اور اردگرد کی عوامی جگہوں کو تجارتی مقاصد کے لیے تبدیل کرنا شہر کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کلفٹن اربن فاریسٹ کے بانی ماہر ماحولیات مسعود لوہار نے کہا کہ نہرِ خیام قدرتی طور پر اوبھایو لیگون اور گزری کریک کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے اور اس کے سمندری ماحولیاتی نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جانی چاہیے۔

ان کے مطابق، قدرتی آبی گزرگاہوں میں تبدیلی کے نتیجے میں سیلاب، طوفان اور سونامی جیسے خطرات بڑھ سکتے ہیں، انہوں نے ایسے منصوبوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کی صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ قدرتی نظام کو سمجھے بغیر تعمیراتی سرگرمیاں شہر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
کراچی ریذیڈنٹس کمیونٹی رکن رشا طارق نے کا کہنا تھا کہ نہرِ خیام کو کلفٹن کے اہم قدرتی ذرائع میں سے ایک قرار دیا گیا تھا، جس کا مقصد بارش اور سمندری مدوجزر کے پانی کو کھلے سمندر تک پہنچانا تھا نہ کہ سیوریج کا پانی بہانا۔
مزید پڑھیں: کراچی: کلفٹن تین تلوار کے قریب سپر مارٹ میں 50 لاکھ روپے سے زائد کی چوری
رشا طارق نے کہا کہ نہرِ خیام، بوٹ بیسن اور کراچی کے نکاسی آب کے نظام کا لازمی حصہ ہے، اس کی گزرگاہ، کھلے کنارے اور اردگرد کا منظرنامہ شہر کے مشترکہ عوامی اثاثے ہیں، جن کا تحفظ تمام شہریوں کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نہر کے بہاؤ اور کناروں کو محدود یا تبدیل کرنے والے تعمیراتی کام فوری طور پر روکے جائیں، مظاہرین نے منصوبے کے مکمل مالیاتی ریکارڈ کو عام کرنے کا مطالبہ کیا، ان کے مطابق، منصوبے کی لاگت 50 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو منظور شدہ بجٹ، مالی وسائل کے ذرائع، معاہدوں کی تفصیلات، ٹھیکے داروں، ادائیگیوں اور حقیقی اخراجات سے آگاہ کیا جائے۔
مظاہرین کے دیگر مطالبات میں نہر کی بارش کے پانی کی نکاسی کی صلاحیت اور عوامی کھلی جگہوں کا تحفظ، نہر کی زمین پر دکانوں اور فوڈ اسٹریٹ سمیت کسی بھی تجارتی تجاوزات کی ممانعت، سمندر میں گندے پانی کے اخراج سے قبل اس کی مناسب صفائی، نکاسی آب اور ماحولیاتی اثرات کا آزادانہ جائزہ اور مزید تعمیراتی کاموں سے پہلے عوامی مشاورت شامل ہیں۔
دوسری جانب کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مذکورہ منصوبہ محکمہ بلدیات کے تحت تعمیر کیا جا رہا ہے، جس کا کے ایم سی سے کوئی تعلق نہیں۔














