مصنوعی ذہانت ایشیا میں افرادی قوت کی کمی پوری کر سکتی ہے، آئی ایم ایف سربراہ کرسٹالینا جارجیوا

پیر 12 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایشیا میں عمر رسیدہ آبادی کے باعث افرادی قوت میں ممکنہ کمی کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے فوائد سے خطے کے تمام ممالک کو یکساں طور پر مستفید کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پہلے سے موجود معاشی تفاوت میں مزید اضافہ نہ ہو۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے ایشیا کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر مبنی ادارے کی کتاب کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبادیاتی تبدیلیاں، معاشی انضمام اور ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت، خطے میں تین بڑی تبدیلیوں کا سبب بن رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی یورپی معیشت کی پیداوار بڑھا سکتی ہے مگر معاشی عدم مساوات کا خطرہ بھی ہے، آئی ایم ایف

انہوں نے کہا کہ اندازوں کے مطابق ترقی یافتہ ایشیا میں مصنوعی ذہانت معاشی ترقی کی شرح میں 0.5 سے ایک فیصد پوائنٹ تک اضافہ کر سکتی ہے۔

ان کے بقول اگر متعلقہ ممالک مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی پیداواری صلاحیت اور معاشی ترقی کے فوائد سے بھرپور استفادہ کریں تو یہ فوائد آبادیاتی تبدیلیوں کے دباؤ پر قابو پانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

کتاب میں پیش کیے گئے نتائج کے مطابق چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں 2050 تک کام کرنے کی عمر کی آبادی میں تقریباً 25 فیصد کمی متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافے سے افرادی قوت میں اس کمی کے اثرات کو کسی حد تک زائل کیا جا سکتا ہے۔

تاہم آئی ایم ایف کے شعبہ ایشیا و بحرالکاہل کے ڈائریکٹر کرشنا سرینواسن نے خبردار کیا کہ پالیسی سازوں کو مصنوعی ذہانت کے فوائد اور ایشیائی ممالک کے درمیان معاشی و تکنیکی فرق بڑھنے کے خطرے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کارکنوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی یا ان کی ملازمتوں کی جگہ لے گی۔

مزید پڑھیں: پوپ لیو کا اے آئی کے حوالے سے عالمی اخلاقی نگرانی کا مطالبہ، تباہی سے خبردار کر دیا

ان کے مطابق ترقی یافتہ معیشتیں مصنوعی ذہانت سے زیادہ متاثر ہونے کے باوجود اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں، جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اس ٹیکنالوجی کے فوائد سمیٹنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

بینکاک میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرینواسن نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ مہارتوں اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے کی جانے والی اصلاحات مصنوعی ذہانت کو اپنانے کے عمل کو ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ عرصہ پہلے ممکن بنا سکتی ہیں۔

دوسری جانب کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ علاقائی تجارتی معاہدوں کو مزید وسعت دینے اور غیرمحصولاتی تجارتی رکاوٹوں میں کمی سے طویل مدت میں ایشیا کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں تقریباً 1.8 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp