وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا مرحلہ پُرامن طریقے سے مکمل کرنے پر سب کے شکر گزار ہیں، اب عوام کی زندگیوں میں آسانیاں لانا اور معمولاتِ زندگی بحال کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں امیر مقام نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایمرجنسی کے نفاذ کے عمل کی خود نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت، گورنر اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پیج پر ہیں۔ عوام کو دہشتگردی سے نجات دلانا اور صوبے میں پائیدار امن قائم کرنا اولین مقصد ہے۔
مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا میں تبدیلی خوش آئند ہے، اب دہشتگردوں کے ساتھ جنگ پوری قوت سے لڑی جائے گی، عطا اللہ تارڑ
انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے اور امن کے قیام کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر اقدامات کریں گے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا تعاون بھی ضروری ہے، وفاقی حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
امیر مقام نے کہا کہ مذاکرات میں متعدد امور پر اتفاق ہوا، تاہم دہشتگردی کے خلاف تعاون کے معاملے پر اختلاف رہا۔ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف مؤثر تعاون کرنے سے گریزاں ہے، جبکہ اس مسئلے پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں حالات ایسے ہیں کہ لوگ جنازوں میں شرکت سے بھی خوفزدہ ہیں، اس لیے دہشتگردی کے معاملے پر واضح مؤقف اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 13 سال کے دوران صوبے کو ملنے والے وسائل کے استعمال کا حساب لیا جانا چاہیے۔ عوام وسائل کے استعمال اور مبینہ بدعنوانی سے متعلق جواب دہی چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر، انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکریٹری سے ملاقاتیں کی ہیں اور عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے متعلقہ حکام سے بات چیت کی ہے۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ عوام کی آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنائی جائے اور انہیں آمدورفت میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عوام کو دیگر صوبوں کے برابر سہولتیں اور ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ صوبے کی خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے سیاست سے بالاتر ہو کر کام کریں گے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے لوگ دہشتگردی اور بدامنی سے تنگ آ چکے ہیں اور امن و امان کی بحالی ان کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے بقول عوام نے پاکستان اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا اظہار کیا ہے اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق مخالفین کے دعوے مسترد کر دیے ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ وہ مختلف اضلاع سے عوامی ردعمل کی رپورٹس لیتے رہے۔ بعض مقامات پر لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کرکے خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پُرامن صورتحال برقرار رکھنے پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئی جی پولیس کی بہتر منصوبہ بندی نے صورت حال پُرامن رکھنے میں کردار ادا کیا۔
مولانا فضل الرحمان کے مؤقف سے متعلق سوال پر امیر مقام نے کہا کہ وہ ایک بڑے سیاسی رہنما ہیں، ان کی اپنی سوچ اور سیاست ہے اور انہیں اپنی رائے کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ فریق ایک پیج پر آ جائیں تو حالات میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے چند دنوں میں تبدیلی اور بہتری نظر آئے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بارڈر کھولنے اور کاروباری مسائل سمیت مختلف امور پر بات چیت ہوئی ہے۔ عوام کی فلاح و بہبود، مسائل کے حل اور صوبے کی بہتری کے لیے تمام فریقوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا میں امن کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں، محسن نقوی
امیر مقام نے ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا میں مجوزہ ٹیکس اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسمبلی میں بھی ان اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی اور احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کے عوام پر ٹیکسوں کا اضافی بوجھ ڈالنے کی مخالفت کرتے ہیں اور عوامی مفاد کے خلاف اقدامات واپس لینے کے لیے مشترکہ آواز اٹھانا ہوگی۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔













