اینکر پرسن اقرار الحسن کے خلاف سائبر کرائم کا مقدمہ، 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف اینکر پرسن سید اقرار الحسن کے خلاف ریاست، اس کے اداروں اور عہدیداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر من گھڑت، اشتعال انگیز اور ہتک آمیز مواد پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ کراچی کی مقامی عدالت نے انہیں 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کر دیا ہے۔

این سی سی آئی اے کراچی نے اقرار الحسن کے خلاف مقدمہ نمبر 101/2026 درج کیا ہے۔

مقدمے میں کیا الزامات عائد کیے گئے؟

این سی سی آئی اے کراچی کے انسپکٹر محمد علی خان کی رپورٹ کی بنیاد پر درج ایف آئی آر کے مطابق، اقرار الحسن کے خلاف الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون (پیکا) 2016، ترمیم شدہ 2025، کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26-اے کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جن میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور فیس بک شامل ہیں، کے ذریعے ایسا مواد شائع اور شیئر کیا جس کا مقصد عوام کو ریاست اور آئینی اداروں کے خلاف اکسانا، ریاستی اقدامات کو متنازع بنانا اور عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کی تعریف کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے معروف اینکر اقرار الحسن گرفتار، اہلیہ نے تصدیق کردی

مقدمے کے متن کے مطابق، اس مواد سے عوام میں خوف و ہراس، بدامنی اور مختلف گروہوں کے درمیان نفرت پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

لاہور سے گرفتاری اور ڈیجیٹل آلات کی برآمدگی

این سی سی آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رانا محمد فیصل منیر خان کی قیادت میں تفتیشی ٹیم نے لاہور میں کارروائی کرتے ہوئے سید اقرار الحسن کو 12 اکتوبر 2026 کو گرفتار کیا۔

گرفتاری اور تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے متعدد ڈیجیٹل آلات تحویل میں لیے گئے، جن میں دو آئی فون 16 پرو، دو آئی فون 11 پرو اور ایک آئی پیڈ ایئر شامل ہیں۔

ابتدائی تکنیکی رپورٹ کے مطابق، ایک آئی فون 16 پرو میں اقرار الحسن کے ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس لاگ اِن پائے گئے، جب کہ فون کی گیلری سے مبینہ طور پر متعلقہ ویڈیو بھی برآمد ہوئی۔ رپورٹ میں ان آلات کو تفصیلی فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔

عدالت نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا

13 اکتوبر 2026 کو تفتیشی افسر نے اقرار الحسن کو جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ (شرقی) کراچی، محمد رضا انصاری کی عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے مزید تفتیش، سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مکمل کنٹرول کی تصدیق اور دیگر آلات و موبائل فونز کی برآمدگی کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

یہ بھی پڑھیے اقرار الحسن کو پنجاب پولیس نے گرفتار نہیں کیا، عظمیٰ بخاری

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور کیس ڈائری کا جائزہ لینے کے بعد اقرار الحسن کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ عدالت نے انہیں 17 اکتوبر 2026 کو پیشرفت رپورٹ کے ساتھ دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp