عمرہ زائرین پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہیں، مذہبی قیادت کا اعلان

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک سعودی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کی میزبانی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں پاکستان کی بڑی مذہبی قیادت نے عمرہ زائرین پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہیں اور ان کے تقدس اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

پریس کانفرنس میں پاک سعودی یکجہتی کونسل کے سرپرست اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، کونسل کے سرپرست سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم، جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری، جمعیت علمائے پاکستان کے سیکریٹری جنرل اور نائب صدر صاحبزادہ شاہ اویس نورانی نے خطاب کیا۔

اس کے علاوہ اہل سنت والجماعت کے سرپرست مولانا محمد احمد لدھیانوی، پاک سعودی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر علی محمد ابو تراب، سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمان خلیل، رابطہ سیکریٹری مولانا عتیق الرحمان شاہ اور ترجمان پروفیسر سجاد قمر نے بھی خطاب کیا۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے ناقابل قبول ہیں، سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم

پاک سعودی یکجہتی کونسل کے سرپرست سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے قابل مذمت ہیں، خصوصاً عمرہ زائرین کو نشانہ بنانے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تمام مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مقامات ہیں اور ان کی سلامتی پوری امت مسلمہ کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور ان حملوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ پوری پاکستانی قوم اور امت مسلمہ ان حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتی ہے۔

سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے اس معاملے پر حکومت پاکستان کے مؤقف کو سراہتے ہوئے اس کی مکمل تائید بھی کی۔

احرام کی حالت میں اللہ کے مہمانوں کو شہید کرنا ظلم عظیم ہے، سردار محمد یوسف

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ احرام کی حالت میں اللہ کے مہمانوں کو شہید کرنا کسی طور پر قابل قبول نہیں۔ ہم واضح اور واشگاف الفاظ میں اس کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حدود میں جہاں چیونٹی مارنا بھی حرام ہے، وہاں ضیوف الرحمان کو شہید کرنا ظلم عظیم ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے اور اس کے دفاع کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گی۔

ان کے مطابق یہ حملے امت مسلمہ میں اشتعال پیدا کرنے کی کوشش ہیں، جن کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام حرمین شریفین کے دفاع کے معاملے پر متحد ہیں۔

سردار محمد یوسف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اس حوالے سے اپنی واضح پالیسی کا اعلان کرچکے ہیں۔

مسلم ممالک سعودی عرب کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوں، مولانا عبدالغفور حیدری

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ سعودی عرب کے معاملے پر پاکستانی حکومت اور عوام کا ایک صفحے پر ہونا خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب محض ایک ملک نہیں بلکہ مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔

مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام مسلم ممالک سعودی عرب کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایمان کا رشتہ قائم ہے، صاحبزادہ شاہ اویس نورانی

جمعیت علمائے پاکستان کے سیکریٹری جنرل صاحبزادہ شاہ اویس نورانی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب بظاہر 2 الگ ممالک ہیں، لیکن دونوں کے درمیان ایمان کا مضبوط رشتہ قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ جبکہ سعودی عرب کو اسلام کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی حرمت اور سلامتی پوری امت مسلمہ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

22 اکتوبر کو اسلام آباد میں سعودی عرب سے اظہار یکجہتی کے لیے اجتماع ہوگا، علامہ محمد احمد لدھیانوی

اہل سنت والجماعت کے سرپرست علامہ محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان عزت و احترام پر مبنی تعلقات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب کو افرادی قوت کی ضرورت پیش آئی تو پاکستانی قوم حرمین شریفین کے دفاع کے لیے حاضر ہوگی۔

ان کے بقول حوثیوں کی کارروائیوں کے پس منظر میں علاقائی قوتوں کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اور پاکستانی حکمرانوں کو اس حوالے سے محتاط رہنا ہوگا۔

علامہ محمد احمد لدھیانوی نے اعلان کیا کہ 22 اکتوبر کو اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں ایک عظیم الشان اجتماع منعقد کیا جائے گا، جس میں حوثیوں کی مذمت اور سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔

حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے دفاعی معاہدے پر مکمل عمل کیا جائے، مولانا فضل الرحمان خلیل

پاک سعودی یکجہتی کونسل کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ مقدس مقامات پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے اور حرمین شریفین کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے دفاعی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض 2 حکومتوں کے درمیان روابط تک محدود نہیں بلکہ ریاستی، تاریخی اور مذہبی بنیادوں پر استوار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔

انہوں نے حرمین شریفین پر حملے کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے۔ سعودی عرب کی جنگ کوئی ذاتی جنگ نہیں بلکہ ایک مقدس جہاد ہے۔

پوری پاکستانی قوم عمرہ زائرین پر حملوں کی مذمت کرتی ہے، پروفیسر سجاد قمر

پاک سعودی یکجہتی کونسل کے ترجمان پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ پاک سعودی یکجہتی کونسل پاکستان کے علمائے کرام اور عوام کی ترجمان ہے۔

انہوں نے حوثیوں کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں نے تو کفار کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور عمرہ زائرین پر حملہ کرکے حرمین شریفین سے دشمنی کا اعلان کیا ہے۔

پروفیسر سجاد قمر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پوری قوم ان حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔

پریس کانفرنس میں شریک مذہبی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp