امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الاسکا میں انتخابی جلسے کے دوران ڈیزل انجنوں کی مرمت کرنے والے 2 مکینکس کو صدارتی معافی دیدی اور اس موقع پر سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دور میں ان کے خلاف چلائے گئے مقدمے کو غیرمنصفانہ قرار دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کی شب الاسکا کے شہر واسلا میں وسط مدتی انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ جلسے کے دوران زچری سزوباک اور پیٹرک فلیمنگ کو اسٹیج پر بلایا اور ان کے لیے معافی کی دستاویزات پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا اوباما خاندان کے خلاف نسل پرستانہ پوسٹ پر معافی سے انکار
دونوں اینکریج میں ڈیزل گاڑیوں کی مرمت کی دکان کے شریک مالک ہیں، جنہوں نے 2022 میں کلین ایئر ایکٹ کی خلاف ورزی کی سازش کے الزام میں جرم قبول کیا تھا۔
ٹرمپ نے اس موقع پر اپنی سابقہ معافی کا حوالہ دیتے ہوئے میکینزی میک اسپارلک کا بھی ذکر کیا، جو واسلا میں ڈیزل مرمت کی دکان کے مالک ہیں۔
President Trump pardons mechanics who removed anti-pollution devices from trucks: "If you murder somebody, if you brutalize somebody, you can do anything you want. But if you fix an engine…" pic.twitter.com/Ppm9eoFbcX
— CSPAN (@cspan) October 14, 2026
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ الاسکا کی شدید سردی میں ٹرکوں کو رواں رکھنے کے لیے ان مکینکس کا کام اہم ہے اور بائیڈن انتظامیہ کے دور میں ان کے خلاف کی جانے والی قانونی کارروائی غیرمنصفانہ تھی۔
تاہم، امریکی محکمہ انصاف کے مطابق زچری سزوباک اور پیٹرک فلیمنگ، ڈیزل مرمت کی دکان ’آرم رِپن ٹوائز‘ کے 3 شریک مالکان میں شامل تھے، جنہوں نے جولائی 2019 سے ستمبر 2020 کے دوران کم از کم 37 ڈیزل گاڑیوں سے وفاقی قوانین کے تحت لازمی اخراجی کنٹرول کے آلات ہٹانے اور نگرانی کے نظام میں ردوبدل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔
مزید پڑھیں: دنیا کے معروف نشریاتی ادارے بی بی سی کو ڈونلڈ ٹرمپ سے معافی کیوں مانگنی پڑی؟
استغاثہ کے مطابق ان تبدیلیوں کے عوض دکان نے تقریباً ایک لاکھ ڈالر وصول کیے تھے۔
معافی کی دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن پر طنز بھی کیا، ان کے دستخط کے لیے آٹو پین کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بائیڈن اپنے ہاتھ سے دستخط کرنے کے قابل نہیں تھے۔
ٹرمپ نے صدارتی معافی دینے کے اختیار کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے اقدامات کرنے میں خوشی ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: لیک اونٹاریو یا لیک امریکا؟ کینیڈا نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا
اس موقع پر ایک مکینک نے صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے نے ان کی زندگی کو شدید متاثر کیا، دوستیاں ختم ہوئیں اور خاندان بھی متاثر ہوئے۔
یہ معافیاں ایسے وقت میں دی گئیں جب صدر ٹرمپ نے الاسکا میں توانائی کے شعبے سے متعلق متعدد اہم اعلانات بھی کیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 800 میل طویل قدرتی گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے تمام ضروری وفاقی اجازت نامے حاصل کر لیے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے جلسے کے شرکا سے کہا کہ منصوبے پر کام شروع کرنے کے لیے درکار تمام اجازت نامے جاری ہو چکے ہیں۔














