آئرش ناول نگار سیلی رونی کی کتابیں برطانیہ میں فروخت نہیں کی جائیں گی، یہ فیصلہ ان کے اس منصوبے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت وہ اپنی کتابوں سے حاصل ہونے والی رائلٹی کی رقم فلسطین ایکشن کی حمایت کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔
فلسطین ایکشن ایک فلسطین نواز گروپ ہے جس پر برطانوی حکومت نے دہشتگرد تنظیم ہونے کے باعث پابندی عائد کر رکھی ہے، سیلی رونی اور ان کے پبلشر نے بدھ کو اس فیصلے کی تصدیق کی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی پابندی کے باوجود آئرش مصنفہ سیلی رونی کی فلسطین ایکشن کے ساتھ یکجہتی
’نارمل پیپل‘ اور ’کنورسیشنز ود فرینڈز‘ جیسے مقبول ناولوں کی مصنفہ سیلی رونی فلسطین ایکشن کی کھل کر حمایت کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے گزشتہ سال برطانوی حکومت کی جانب سے اس گروپ پر انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کے تحت پابندی عائد کیے جانے کے بعد بھی اپنی حمایت جاری رکھی۔
Author Sally Rooney says she can no longer sell her books in the UK because of her support for the banned protest group Palestine Action.
Sky's Sadiya Chowdhury tells @skysarahjane the latest.
🇬🇧 https://t.co/6SYv7xYRms pic.twitter.com/KYDZn6q9aP
— Sky News (@SkyNews) October 14, 2026
رونی نے اس سے قبل لندن کی ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے ایک تحریری بیان میں کہا تھا کہ فلسطین ایکشن پر پابندی کے خلاف قانونی کارروائی کی حمایت کے باعث ان کی کتابیں برطانیہ میں فروخت سے ہٹائی جا سکتی ہیں۔
ان کے پبلشر فیبر نے بدھ کو بتایا کہ اس نے سیلی رونی کے ساتھ اتفاق کیا ہے کہ اب ان کی کتابیں برطانیہ میں کسی بھی فارمیٹ میں فراہم نہیں کی جائیں گی، تاہم دنیا کے دیگر حصوں میں ان کی کتابوں کی فروخت جاری رہے گی۔
مزید پڑھیں: آئرش مصنفہ سیلی رونی کا برطانیہ میں فلسطین ایکشن سے منسلک قیدیوں کی مبینہ بدسلوکی پر اظہارِ تشویش
’برطانیہ میں موجودہ قانون سازی کے باعث ایسی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے کہ فابر سیلی رونی کو ان کی تحریروں سے برطانیہ میں حاصل ہونے والی آمدنی منتقل نہیں کر سکتا۔‘
پبلشر نے مزید کہا کہ کسی مصنف کی تحریریں فروخت کرنا اور اس کی آمدنی اسے منتقل نہ کر سکنا ایک ایسا ناقابلِ قبول معاملہ ہے جسے کوئی پبلشر درست نہیں سمجھ سکتا۔
سیلی رونی نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنے نظریات اور ارادوں کے بارے میں عوام کے سامنے دیانت داری برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور وہ اس کے نتائج قبول کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔
Irish author Sally Rooney’s books will no longer be sold in the UK after her publisher said it cannot pay her royalties because she supports the banned group Palestine Action.
🔴 More on https://t.co/MbrRGkFKRg pic.twitter.com/igDzVem2OR
— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 14, 2026
فلسطین ایکشن نے حالیہ عرصے میں اسرائیل سے منسلک دفاعی کمپنیوں کو زیادہ نشانہ بنایا تھا، جون 2025 میں برطانیہ کے رائل ایئر فورس کے بریز نارٹن اڈے میں توڑ پھوڑ اور غیر قانونی داخلے کے واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد حکومت نے اس گروپ پر پابندی عائد کر دی تھی۔
گزشتہ سال فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہُدا عموری نے اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ فروری 2026 میں ہائیکورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا، تاہم جون میں کورٹ آف اپیل نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اب برطانیہ کی سپریم کورٹ آئندہ ماہ اس معاملے پر اپیل کی سماعت کرے گی۔
فلسطین ایکشن پر پابندی کے بعد سے اب تک 3,000 سے زائد افراد کو ایسے پلے کارڈز اٹھانے پر گرفتار کیا جا چکا ہے جن پر اس گروپ کی حمایت کا اظہار کیا گیا تھا، شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس پابندی پر تنقید کی ہے۔














