موسمیاتی تبدیلی اور شدید گرمی سے ماں اور نومولود کی صحت کو سنگین خطرات، پاکستان میں قبل از وقت پیدائش بڑا چیلنج بن گئی

جمعرات 15 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات اب صرف ماحول تک محدود نہیں رہے بلکہ حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی صحت کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں 2020 کے دوران قبل از وقت پیدائش کی شرح تقریباً 14.3 فیصد تھی۔ قبل از وقت پیدائش سے مراد حمل کے 37 مکمل ہفتوں سے پہلے بچے کی پیدائش ہے۔ اقوام متحدہ کی نئی تحقیق کے مطابق ایک فیصد درجہ حرارت بڑھنے سے قبل از وقت پیدائش میں 5 فیصد جبکہ حمل کے دوران خواتین میں شوگر 7 فیصد تک بڑھ رہی ہے،

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر صدف ذوالفقار نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی قبل از وقت پیدائش کی شرح تشویش ناک ہے، جبکہ ایسے بچوں کی مناسب نگہداشت کے لیے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹس (نیونیٹل آئی سی یوز) اور خصوصی نرسریز کی دستیابی بھی اہم چیلنج ہے۔

ڈاکٹر صدف ذوالفقار کے مطابق، شدید گرمی کے دوران حاملہ خواتین میں پانی کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خواتین پہلے ہی بعض اوقات ضرورت کے مطابق پانی نہیں پیتیں، جبکہ ہیٹ ویو کے دوران یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ پانی کی کمی اور جسمانی دباؤ حمل کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے حاملہ خواتین کو اپنی جسمانی کیفیت اور پانی کی مقدار پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ حمل کے دوران بلند فشارِ خون، ذیابیطس اور پری ایکلیمپسیا جیسی پیچیدگیاں ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔ پری ایکلیمپسیا حمل کے دوران بلند فشارِ خون سے متعلق ایک سنگین کیفیت ہے، جس میں فوری طبی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صدف کے مطابق، پانی کی کمی بعض حالات میں بچے کے گرد موجود امنیوٹک فلوئڈ، جسے عام زبان میں بچے کا پانی کہا جاتا ہے، کی مقدار پر بھی اثرانداز ہوتی ہے جو پری میچور برتھ کی ایک بڑی وجہ ہے۔

 ڈاکٹر صدف ذوالفقار کا کہنا تھا کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کا وزن عموماً کم ہو سکتا ہے، ان میں انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور جسمانی درجۂ حرارت برقرار رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ ایسے بچوں کو سانس لینے میں بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے باعث انہیں نوزائیدہ بچوں کی خصوصی نگہداشت اور بعض صورتوں میں نیونیٹل آئی سی یو میں علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ایسے بچوں کے لیے ماحول کا درجۂ حرارت مناسب رکھنا اور مسلسل طبی نگرانی ضروری ہے، کیونکہ وہ جسمانی درجۂ حرارت میں تبدیلیوں کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صدف نے توجہ دلائی کہ دیہی علاقوں میں کھیتوں میں کام کرنے والی حاملہ خواتین کو شدید گرمی میں طویل وقت گزارنا پڑ سکتا ہے۔ ان علاقوں میں ٹھنڈے ماحول، صاف پانی اور طبی سہولتوں تک محدود رسائی ان کے لیے اضافی مشکلات پیدا کرتی ہے۔

ان کے مطابق حاملہ خواتین میں گرمی سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی بڑھانا، کام کے دوران آرام کے مواقع فراہم کرنا اور ضرورت کے مطابق کام کے اوقات میں سہولت دینا اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کام کرنے والی حاملہ خواتین کو مناسب آرام اور محفوظ ماحول ملنا چاہیے تاکہ ان کی صحت پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔

ڈاکٹر صدف ذوالفقار نے حاملہ خواتین کو مشورہ دیا کہ شدید گرمی میں پانی مناسب مقدار میں پئیں، متوازن غذا استعمال کریں، غیر ضروری سفر اور طویل وقت تک دھوپ میں رہنے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو ٹھنڈے، ہوادار ماحول میں آرام کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ حاملہ خواتین کو معمول کے طبی معائنے جاری رکھنے چاہییں اور بلڈ پریشر یا حمل کی ذیابیطس جیسی پیچیدگیوں کی علامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر شدید کمزوری، چکر، بے ہوشی، غیر معمولی پیٹ درد، خون آنا، پانی بہنا یا بچے کی حرکت میں واضح کمی محسوس ہو تو فوری طبی امداد حاصل کی جائے۔

ڈاکٹر صدف کے مطابق، حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کو موسمیاتی تبدیلی کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے آگاہی، بروقت طبی امداد اور نوزائیدہ بچوں کی بہتر نگہداشت کی سہولتوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp