پشاور کے علاقے سعید آباد کی دیر کالونی میں نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سسٹم کی عمارت منہدم ہونے کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
تھانہ آغا میر جانی شاہ کے ایس ایچ او ریاض خان کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق اسکول کی عمارت کی دیواریں اور چھتیں بوسیدہ ہو چکی تھیں۔
مبینہ طور پر زیرِ تعلیم بچے بھی اس حوالے سے اسکول انتظامیہ کو متعدد مرتبہ شکایات کر چکے تھے، تاہم ان شکایات پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول سانحہ: بستے، دعائیں اور بکھرتے خواب
ایف آئی آر کے متن کے مطابق 15 اکتوبر 2026 کو صبح 9 بج کر 5 منٹ پر پیش آنے والے اس حادثے میں اسکول کی دوسری منزل پر واقع نرسری کلاس اور گراؤنڈ فلور پر واقع جماعت دوم کے کمروں کی چھتیں گر گئیں، جس کے نتیجے میں دونوں کلاسوں میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے۔
پشاور/ سکول سانحہ مقدمہ درج
دیر کالونی اسکول حادثے کا مقدمہ تھانا آغہ میر جانی شاہ میں درج
سکول کی چھتیں گرنے سے 30 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی،متن
اسکول کی چھتیں گرنے سے 52 افراد زخمی ہوئے ، متن
اسکول کی عمارت میں ناقص میٹریل استعمال ہوا، عمارت… pic.twitter.com/mfOWcsGe3T
— Ahsan Jadoon (@AhsanJadooncxz) October 16, 2026
پولیس رپورٹ میں ابتدائی طور پر 30 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکت، جبکہ 52 افراد کے زخمی ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، ایف آئی آر کے مطابق دیگر متاثرین سے متعلق معلومات کی تصدیق کا عمل بھی جاری تھا۔
پولیس نے مبینہ غفلت، ناقص تعمیر اور بچوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کے تحت متعلقہ مالکان اور ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے، مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 322، 148 اور 149 شامل کیے جانے کا ذکر ہے۔
اسکول کی 16 مرلے اراضی سال 2024 میں لیز پر حاصل کی گئی
مقدمے میں درج معلومات کے مطابق اسکول کی اراضی 16 مرلے پر مشتمل ہے، جس کے مالکان وحید اور جاوید، ساکنانِ دیر کالونی، بتائے گئے ہیں۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ مفتی خان محمد ولد تاج محمد، ساکن سعید آباد، دیر کالونی، اور دیگر شیئر ہولڈرز نے 2024 میں مذکورہ اراضی لیز پر حاصل کی، جس کے بعد ٹھیکیدار ارشاد زمان کے ذریعے اسکول کی عمارت تعمیر کرائی گئی۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمارت کی تعمیر کے دوران ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا، حالانکہ ذمہ داران کو اس کے ممکنہ خطرات کا علم تھا یا انہیں ان خطرات کا اندازہ ہونا چاہیے تھا۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔
بچوں کی شکایات کے باوجود مرمت کیوں نہ ہوئی؟
اس سانحے سے متعلق ایف آئی آر کا اہم پہلو عمارت کی مبینہ بوسیدہ حالت اور اس حوالے سے پہلے سے موجود شکایات ہیں، پولیس رپورٹ کے مطابق اسکول میں زیرِ تعلیم بچوں نے متعدد مرتبہ مالکان اور شیئر ہولڈرز کو بتایا تھا کہ عمارت کی دیواریں اور چھتیں خستہ حال ہو چکی ہیں اور ان کے گرنے کا خدشہ ہے، تاہم مبینہ طور پر ان شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
یہ پہلو تحقیقات کے حوالے سے کئی اہم سوالات اٹھاتا ہے کہ عمارت کی حالت سے متعلق شکایات کب اور کن افراد کو موصول ہوئیں، کیا کسی ماہر یا متعلقہ سرکاری ادارے سے عمارت کا معائنہ کرایا گیا تھا، اور اگر خطرے سے متعلق آگاہی موجود تھی تو بچوں کی حفاظت کے لیے بروقت اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔
پولیس اور امدادی اداروں کی کارروائیاں
ایف آئی آر کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے پر ایس ایچ او ریاض خان پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ ریسکیو 1122، سرکاری و نجی ایمبولینسوں اور دیگر امدادی ٹیموں کو بھی طلب کیا گیا۔
جبکہ اعلیٰ پولیس افسران نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی، ملبے سے نکالے گئے بچوں اور اسکول کے عملے کو طبی امداد کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
پولیس رپورٹ میں زمین کے مالکان، لیز لینے والوں، شیئر ہولڈرز اور تعمیراتی ٹھیکیدار کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے مبینہ غفلت کو بچوں کی ہلاکتوں اور دیگر افراد کے زخمی ہونے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں واقعے کو قتل بالسبب سے تعبیر کرتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور تفتیش شروع کرنے کا ذکر ہے۔
مزید پڑھیں: پشاور اسکول حادثہ: 110 بچے زیرِ تعلیم تھے، مالک حراست میں، ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج ہوگا، سی سی پی او
تھانہ آغا میر جانی شاہ میں مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیش سب انسپکٹر ثنا اللہ خان کے سپرد کیے جانے کا ذکر بھی ایف آئی آر میں موجود ہے۔
اس واقعے نے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر، ان کی حفاظت، سرکاری معائنوں اور بچوں کی شکایات پر کارروائی کے نظام سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے دیے ہیں۔
اب تفتیش کے دوران عمارت کے نقشے، تعمیراتی معیار، متعلقہ اجازت ناموں، حفاظتی معائنے اور مبینہ شکایات کے ریکارڈ کی جانچ اہم ہو گی، تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا اس المناک سانحے سے بچا جا سکتا تھا یا نہیں اور یہ بھی اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔











