فلسطین پر بچوں کی کتاب کی اشاعت آخری لمحات میں کیوں روک دی گئی؟

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فلسطین کی تاریخ، اسرائیلی قبضے اور فلسطینی مزاحمت کے موضوع پر بچوں کے لیے لکھی گئی ایک کتاب کی اشاعت پینگوئن رینڈم ہاؤس نے ریلیز سے چند روز قبل روک دی۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ناشر اور فلسطینی نژاد امریکی مصنفین علانا حدید اور جنان المطري کے درمیان کتاب میں فلسطینی تاریخ اور 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کی عکاسی کے معاملے پر کئی ماہ تک اختلافات جاری رہے۔

کتاب Displacement and the Palestinian American Story رواں سال ستمبر میں شائع ہونا تھی۔ اس کا مقصد 10 سے 13 سال کی عمر کے بچوں کو فلسطینی تاریخ، اسرائیلی قبضے، مزاحمت اور دنیا بھر میں پھیلے فلسطینیوں کے تجربات سے آگاہ کرنا تھا۔ کتاب میں مصنفین کے اپنے خاندانوں کی نقل مکانی اور بے دخلی کی کہانیاں بھی شامل تھیں۔

پینگوئن رینڈم ہاؤس کے ذیلی ادارے رینڈم ہاؤس چلڈرنز بکس نے نومبر 2024 میں علانا حدید اور جنان مطاری کے ساتھ کتاب کی اشاعت کا معاہدہ کیا تھا۔ علانا حدید معروف ماڈلز بیلا اور جیجی حدید کی بہن، سماجی کارکن اور مخیر شخصیت ہیں جبکہ جنان المطري ایک ایوارڈ یافتہ مصنفہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بچپن سے شہرت کی بلندیوں تک: مشہور ماڈل بیلا حدید کی زندگی پر مبنی کتاب ریلیز ہونے کو تیار

برطانوی اخبار کے مطابق مصنفین نے کتاب کا مسودہ اور ناشر کے ساتھ ہونے والی ای میل خط و کتابت کے اقتباسات اخبار کو فراہم کیے۔ ان کے مطابق بنیادی اختلاف 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں سے متعلق عبارت پر سامنے آیا۔

مصنفین کے مسودے میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نوآبادیاتی تسلط کے تحت زندگی گزارنے والے لوگوں کو مزاحمت کا حق حاصل ہے۔ دوسری جانب ناشر چاہتا تھا کہ کتاب میں یہ بات بھی واضح کی جائے کہ 7 اکتوبر کے حملوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بیلا حدید نے 2 سال بعد بوائے فرینڈ سے علیحدگی اختیار کرلی، وجہ کیا بنی؟

رپورٹ کے مطابق کتاب کے ایک ایڈیٹر نے مسودے میں یہ جملہ شامل کیا کہ ’یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھے۔‘ اس پیش رفت کے بعد مصنفین نے ستمبر کے اوائل میں کتاب کی اشاعت کے منصوبے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔

جنان المطري نے انسٹاگرام پر اپنے ردِعمل میں کہا کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس جیسے بڑے عالمی اشاعتی ادارے کے ساتھ کام کرنا ان کا خواب تھا لیکن وہ ذاتی کامیابی کے لیے اپنے اصولوں اور اپنی برادری سے وابستگی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتیں۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطین ایکشن کی حمایت، سیلی رونی کی کتابوں کی برطانیہ میں فروخت بند

انہوں نے لکھا کہ ذاتی کامیابی کے لیے اپنے اخلاقی اصولوں کی قربانی نہ دینا ایک واضح انتخاب ہے۔ جنان المطري کے مطابق مظلوم قوموں کے حقِ مزاحمت کو سمجھنا نوآبادیاتی سوچ سے نجات حاصل کرنے اور نوآبادیاتی نظام کے اثرات کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب، رینڈم ہاؤس کے ترجمان نے دی گارڈین کو بتایا کہ کتاب کی تیاری کے دوران ادارے کے معمول کے اشاعتی طریقۂ کار پر عمل کیا گیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ادارہ مصنفین کے فیصلے کا احترام کرتا ہے اور نوجوان قارئین تک فلسطینی نقطۂ نظر پہنچانے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی خاندانوں کی مدد، پاکستانی اداکاروں کا اردن میں 5 روزہ امدادی مشن

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آئرلینڈ کی معروف ناول نگار سیلی رونی کی کتابوں کی برطانیہ میں فروخت بند ہونے کے امکان کی خبر بھی سامنے آئی۔ رونی اور ان کے ناشر کے مطابق اس معاملے کا تعلق فلسطین ایکشن نامی تنظیم کی حمایت کے لیے اپنی کتابوں سے حاصل ہونے والی رائلٹی استعمال کرنے کے ان کے منصوبے سے ہے۔

نارمل پیپل اور کنورسیشنز ود فرینڈز جیسے مشہور ناولوں کی مصنفہ سیلی رونی فلسطین ایکشن کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ برطانوی حکومت نے گزشتہ سال اس تنظیم پر دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’فلسطین سے ایران تک ہمارے بم معصوم خواتین اور بچوں کو مار رہے ہیں‘، امریکی رکن کانگریس

رونی نے لندن کی ہائی کورٹ میں تنظیم پر پابندی کو چیلنج کرنے والی قانونی کارروائی کی حمایت میں جمع کرائے گئے بیان میں کہا تھا کہ ان کے فیصلے کے نتیجے میں برطانیہ میں ان کی کتابوں کی فروخت متاثر ہوسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp