امریکا کو دنیا میں صحت اور فٹنس کے حوالے سے سب سے زیادہ باشعور ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جہاں متوازن غذا، آرگینک فوڈ، کیلوریز گننے اور جم کلچر کو روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روزانہ کی خوراک میں اسنیکس سمیت الٹرا پراسیسڈ چیزیں کتنی خطرناک، 88 لاکھ افراد کے ڈیٹا سے اہم انکشاف
وہاں اوسط عمر بھی کئی ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے اور صحت کے معیار پر سختی سے عمل درآمد ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکیوں کی خوراک کی عادات دنیا بھر میں دلچسپی اور تحقیق کا موضوع بنی رہتی ہیں۔
ایسے میں جب ایک ایسا معاشرہ جو صحت کے معاملے میں انتہائی محتاط سمجھا جاتا ہے وہاں بھی نصف سے زیادہ خوراک الٹرا پراسیسڈ غذاؤں پر مشتمل ہو تو یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید طرز؎ زندگی میں سہولت اور مصروفیت کس طرح صحت مند انتخاب پر حاوی ہو رہی ہے۔ یہ رجحان صرف امریکا تک محدود نہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک سمیت پاکستان میں بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے جہاں برگر، پیزا اور پیک شدہ اشیا نوجوان نسل کی روزمرہ خوراک بنتی جا رہی ہیں۔
قومی غذائی ڈیٹا کے ایک بڑے تجزیے نے تصدیق کی ہے کہ الٹرا پراسیسڈ غذائیں اب بھی بیشتر امریکی بالغ افراد کی خوراک کی بنیاد ہیں۔
مزید پڑھیے: خوراک خریدنے سے پہلے معلومات چیک کرنے والی ایپس واقعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں؟
سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، جو اگست 2021 سے اگست 2023 تک کے سروے پر مبنی ہے، 19 سال اور اس سے زائد عمر کے بالغ افراد اپنی روزانہ کی 53 فیصد کیلوریز ان ہی غذاؤں سے حاصل کرتے ہیں۔
الٹرا پراسیسڈ غذاؤں میں وہ اشیا شامل ہیں جو زیادہ تر صنعتی اجزا سے بنتی ہیں جو گھریلو کچن میں شاذ و نادر ہی استعمال ہوتے ہیں جیسے ہائی فرکٹوز کارن سیرپ، ہائیڈروجنیٹڈ آئل اور ذائقہ بڑھانے والے اجزا۔ عام مثالوں میں پیک شدہ اسنیکس، میٹھے مشروبات، برگر، پیزا، کوکیز اور نمکین چپس شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ شرح سال 2013-2014 میں 55.8 فیصد تھی جس میں معمولی کمی آئی ہے لیکن اب بھی نصف سے زیادہ ہے۔ نوجوان بالغ افراد (19 سے 39 سال) میں یہ شرح 54.4 فیصد جبکہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد میں 51.7 فیصد رہی۔ سینڈوچ اور برگرز کیلوریز کا سب سے بڑا ذریعہ (8.6 فیصد) بنے۔
مزید پڑھیں: ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ الٹرا پراسیسڈ غذاؤں سے بھرپور خوراک موٹاپے، ٹائپ 2 ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتی ہے اور ان کی سہولت، کم قیمت اور بڑے پیمانے پر تشہیر کی وجہ سے ان سے بچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اگرچہ معمولی کمی کا رجحان حوصلہ افزا ہے لیکن محققین کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار اب بھی اتنے زیادہ ہیں کہ صحت عامہ کے خدشات کو جنم دیتے ہیں۔ بہت سے ماہرین بتاتے ہیں کہ یہ غذائیں آسان، سستی اور بڑے پیمانے پر مارکیٹ کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے بہت سے خاندانوں کے لیے ان سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سائنسدان مسلسل اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ کیلوریز، چینی اور چکنائی سے ہٹ کر فوڈ پراسیسنگ خود میٹابولزم اور طویل مدتی صحت پر کیسے اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: فرانس: سینکڑوں سپر مارکیٹس پر سائبر حملہ، ریفریجریٹرز تپتے اوون میں تبدیل، لاکھوں یوروز کی خوراک ضائع
فی الحال ڈیٹا سے واضح پیغام یہ ہے کہ الٹرا پراسیسڈ مصنوعات اب بھی اوسط امریکی بالغ کی پلیٹ پر حاوی ہیں۔











