آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے تیل بردار جہاز میں دھماکا، امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی برآمدات جاری

ہفتہ 17 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آبنائے ہرمز میں بحری کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ 2 ملین بیرل سے زیادہ خام تیل لے جانے والا ایک جہاز بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد دھماکے سے پھٹ گیا اور اس میں آگ لگ گئی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی مؤثر ثابت ہو رہی ہے، تاہم رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پابندیوں کے باوجود ایران سے تیل اور گیس کی محدود برآمدات جاری ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے ایسے راستے کے ذریعے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا جس کی تہران نے اجازت نہیں دی تھی۔ ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ میں جہاز کا نام، پرچم، ملکیت، منزل اور ممکنہ جانی نقصان کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ واقعے کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 13 اکتوبر تک ناکہ بندی کے دوران 135 جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا گیا، جبکہ 4 تجارتی جہاز ناکارہ بنائے گئے۔ امریکی فوج نے 11 اکتوبر کو بھی ایک ایسے مال بردار جہاز کو ناکارہ بنانے کی اطلاع دی تھی جس نے ایرانی بندرگاہ سے روانہ ہو کر ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی۔

تاہم رائٹرز نے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار اور سمندری سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جولائی کے وسط سے خلیج عمان کے راستے کم از کم 8 مائع پٹرولیم گیس بردار اور ایک جیٹ ایندھن بردار جہاز روانہ ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی انتخابات سے قبل آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی ایرانی حکمت عملی کیوں؟

آبنائے ہرمز خلیج کو خلیج عمان سے ملانے والا عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی، بحری بارودی سرنگوں اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے خدشات سے عالمی تیل و گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp