آبنائے ہرمز میں بحری کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ 2 ملین بیرل سے زیادہ خام تیل لے جانے والا ایک جہاز بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد دھماکے سے پھٹ گیا اور اس میں آگ لگ گئی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی مؤثر ثابت ہو رہی ہے، تاہم رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پابندیوں کے باوجود ایران سے تیل اور گیس کی محدود برآمدات جاری ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے ایسے راستے کے ذریعے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا جس کی تہران نے اجازت نہیں دی تھی۔ ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ میں جہاز کا نام، پرچم، ملکیت، منزل اور ممکنہ جانی نقصان کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ واقعے کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔
IRGC RELEASES FOOTAGE of 'ROGUE SUPERTANKER' carrying 2M+ BARRELS OF OIL going up in FLAMES after 'STRIKING A MINE' in HORMUZ
Says vessel tried to 'ILLEGALLY PASS' while DISABLING NAVIGATION & RADAR SYSTEMS
IRGC WARNS SHIPS AGAINST CROSSING HORMUZ — 'THE STRAIT IS CLOSED' pic.twitter.com/GdrVbzbu0U
— RT (@RT_com) October 17, 2026
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 13 اکتوبر تک ناکہ بندی کے دوران 135 جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا گیا، جبکہ 4 تجارتی جہاز ناکارہ بنائے گئے۔ امریکی فوج نے 11 اکتوبر کو بھی ایک ایسے مال بردار جہاز کو ناکارہ بنانے کی اطلاع دی تھی جس نے ایرانی بندرگاہ سے روانہ ہو کر ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی۔
تاہم رائٹرز نے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار اور سمندری سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جولائی کے وسط سے خلیج عمان کے راستے کم از کم 8 مائع پٹرولیم گیس بردار اور ایک جیٹ ایندھن بردار جہاز روانہ ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی انتخابات سے قبل آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی ایرانی حکمت عملی کیوں؟
آبنائے ہرمز خلیج کو خلیج عمان سے ملانے والا عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی، بحری بارودی سرنگوں اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے خدشات سے عالمی تیل و گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔













