آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں آٹزم اور مرگی کے مرض میں مبتلا 15 سالہ لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنانے اور اس سے جوتے چھیننے کے الزام میں 3 نوعمر لڑکوں پر فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔
واقعے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں متعدد نوجوانوں کو متاثرہ لڑکے پر مکے اور لاتیں مارتے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ دیگر نوجوان موقع پر موجود رہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا: رگبی شائقین کی تقریب میں کار بے قابو، بچوں سمیت 10 زخمی
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ 5 اکتوبر 2026 کو وکٹوریہ کے قصبے اسٹاول میں ریلوے اسٹیشن کے قریب پیش آیا، جہاں متاثرہ لڑکے کو اس مقام پر اسنیپ چیٹ کے ذریعے 2 لڑکیوں کے ساتھ ملاقات کا انتظام کرکے بلایا گیا تھا۔
واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ متعدد نوجوان لڑکے کو گھونسے اور لاتیں مارتے ہیں، جس سے وہ زمین پر گر جاتا ہے۔
#EXCLUSIVE: Two teenagers who bashed an autistic high school student in Geelong have been let off with warnings.
The victim's mum is calling for tougher laws to be introduced to give police more power to battle youth offenders. #geelong pic.twitter.com/KTOzlSEbX8
— Naqeeb Hussain (@Passdarg) October 17, 2026
حملہ آور اسے بار بار تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، جبکہ لڑکا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے، ویڈیو میں ایک حملہ آور کو لڑکے سے جوتے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے، جس کے بعد گروپ اسے جانے دیتا ہے۔
وکٹوریہ پولیس کے مطابق منگل کو تفتیش کاروں نے کارروائی کرتے ہوئے 14 سالہ ایک لڑکے اور 15 سالہ 2 لڑکوں پر فردِ جرم عائد کی۔
مزید پڑھیں: سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم
پولیس نے بتایا کہ نادرن گرامپینز کرائم انویسٹی گیشن یونٹ کے اہلکاروں نے علاقے میں 4 مقامات پر تلاشی کے وارنٹ پر عمل درآمد کے بعد تینوں نوعمر ملزمان کو گرفتار کیا۔
تینوں ملزمان کو لڑائی جھگڑے، ڈکیتی، لاپروائی سے جسمانی نقصان پہنچانے اور چوری کے الزامات کا سامنا ہے۔
انہیں بعد ازاں بچوں کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، پولیس کے مطابق ایک چوتھے لڑکے سے بھی تفتیش کی جائے گی، جو تلاشی کے دوران موجود نہیں تھا۔
Heartbroken mother speaks out after autistic son is brutally attacked in fake meet-up scheme https://t.co/msU9G8quSX pic.twitter.com/31eHhCn16R
— New York Post (@nypost) October 13, 2026
لڑکے کی والدہ نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے اس کے دماغ میں خون بہنے کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے اضافی اسکین تجویز کیے تھے۔
والدہ کے مطابق ان کا بیٹا گھر واپس آچکا ہے، تاہم وہ اب بھی گھر سے باہر نکلنے سے خوف محسوس کرتا ہے اور اسے ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔













