وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لائیواسٹاک کارڈ فیز ٹو کا افتتاح کر دیا، جس کے تحت تحت مویشی پال فارمرز کو فی جانور 27 ہزار روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا، جبکہ مویشیوں کی مفت ٹیگنگ اور ویکسینیشن کی سہولت بھی دی جائے گی۔
اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 16 ارب 20 کروڑ روپے کے بلاسود قرضوں کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا لائیو اسٹاک کارڈ: مویشی پالنے والے کیا فائدہ اٹھاسکتے ہیں؟
حکومت پنجاب کے مطابق لائیواسٹاک کارڈ فیز ٹو کا مقصد مویشی پال فارمرز کو مالی معاونت فراہم کرنا، لائیواسٹاک کے شعبے کو ترقی دینا اور گوشت کی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ اسکیم کے ذریعے فارمرز کو مویشیوں کی دیکھ بھال اور پیداوار بہتر بنانے کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
لائیواسٹاک کارڈ کے اجرا کے بعد دیہی خواتین فارمرز کی تعداد 90 سے بڑھ کر 1,107 ہو گئی ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت پنجاب کے لائیواسٹاک فارمرز کو قومی برآمد کنندگان اور بین الاقوامی ویب سائٹس کے ساتھ منسلک کرنا چاہتی ہے، تاکہ انہیں اپنی پیداوار کے لیے وسیع تر منڈیاں میسر آئیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لائیوسٹاک کارڈ فیز II کا افتتاح کر دیا۔ اسکیم کے تحت فارمرز کو فی مویشی 27 ہزار روپے تک بلاسود قرض، مویشیوں کی مفت ٹیگنگ اور ویکسینیشن کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ 16 ارب 20 کروڑ روپے کے بلاسود قرضوں کا ہدف مقرر۔
مویشی پال کسانوں کو مالی سہولت،… pic.twitter.com/xJiAeyr9qm— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) October 14, 2026
حکومت پنجاب نے مویشی پال فارمرز کی مالی معاونت، لائیواسٹاک کی ترقی اور گوشت کی برآمدات میں اضافے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے، لائیواسٹاک کارڈ فیز 2 کو ان اہداف کے حصول کے لیے اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق، صوبے سے جانوروں کی برآمدات میں 43 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ لائیواسٹاک کارڈ کے تحت 129,581 مویشی برآمد کیے گئے۔
مختلف شہروں سے برآمد کیے جانے والے مویشیوں میں لاہور سے 20 ہزار، بہاولپور سے 24,297، فیصل آباد سے 12,529، گوجرانوالہ اور گجرات سے مجموعی طور پر 21 ہزار، ملتان سے 27 ہزار، سرگودھا سے 22 ہزار اور ساہیوال سے 2,661 مویشی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا صوبے میں لائیوسٹاک کی بہتری کے لیے تاریخی منصوبے کا اعلان
لائیواسٹاک کنیکٹ سسٹم کے تحت 1,725 فیٹننگ فارمز، 20 ایکسپورٹ مذبح خانوں، 88 میٹ ایکسپورٹرز اور 34 میٹ ٹریڈرز سے براہ راست رابطے قائم کیے گئے ہیں، تاکہ فارمرز کو منڈیوں، خریداروں اور برآمدی نیٹ ورک سے منسلک کیا جا سکے۔
حکومت پنجاب لائیواسٹاک کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن اور جدید سہولتوں کے فروغ کے لیے 19 ارب روپے کی فنانسنگ سبسڈی فراہم کرے گی، جبکہ میٹ ویلیو چین میں 65 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں انقلابی اقدامات کی بدولت لائیوسٹاک کارڈ کے ذریعے فارمرز کو مالی معاونت، مویشیوں کی بہتر پرورش اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ایک سال میں 4 لاکھ مویشی تیار جبکہ لائیوسٹاک کارڈ کے تحت فی مویشی 27 ہزار روپے تک کا… pic.twitter.com/4LPCJyWYND
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) October 18, 2026
صوبے میں 5 میٹ پراسیسنگ پلانٹس اور 5 جدید سلاٹر ہاؤسز قائم کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ میٹ پیکنگ ہاؤسز، کمرشل اسکیل فیڈلاٹس اور کارپوریٹ فیڈلاٹس کے قیام پر بھی کام کیا جائے گا۔
پنجاب میں پہلی مرتبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایف ایم ڈی ویکسین کی تیاری کا یونٹ قائم کیا جائے گا، جس میں 28 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس منصوبے سے مویشیوں کی بیماریوں پر قابو پانے اور برآمدی معیار کے مطابق جانوروں کی تیاری میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
حکومت پنجاب کے مطابق لائیواسٹاک کے شعبے میں سرمایہ کاری، جدید انفراسٹرکچر، بیماریوں سے تحفظ اور برآمدی روابط کے فروغ کے ذریعے فارمرز کی آمدن میں اضافے اور صوبے کو عالمی میٹ مارکیٹ میں مؤثر مقام دلانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔











