اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی پرائیویسی کو بہتر بنانے کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے صارفین اپنی نجی گفتگو کو چار ہندسوں کے پن کوڈ یا معاون موبائل ڈیوائسز پر فیس آئی ڈی، ٹچ آئی ڈی اور دیگر تصدیقی طریقوں سے لاک کر سکیں گے۔
اس نئے فیچر کے ذریعے صارفین اپنی حساس گفتگو کو ڈیلیٹ کیے بغیر عام چیٹ ہسٹری اور سرچ نتائج سے چھپا سکیں گے جبکہ ضرورت پڑنے پر تصدیق کے بعد دوبارہ اس تک رسائی بھی حاصل کی جا سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی خطرہ، امریکا کی 8 ریاستوں کا اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ
رپورٹ کے مطابق یہ سہولت اس وقت خاص طور پر کارآمد ہو سکتی ہے جب صارف اپنا فون کسی دوسرے شخص کو دے رہا ہو اسکرین شیئر کر رہا ہو یا اپنی ذاتی گفتگو کو دوسروں کی نظروں سے محفوظ رکھنا چاہتا ہو۔
چیٹ لاک کرنے کا طریقہ
چیٹ جی پی ٹی میں کسی گفتگو کو لاک کرنے کے لیے صارف کو متعلقہ چیٹ کے تین نقطوں والے مینو میں جا کر ’لاک چیٹ‘ (Lock chat) کا آپشن منتخب کرنا ہوگا۔ اس کے بعد چار ہندسوں کا پن کوڈ ترتیب دے کر یا موجودہ کوڈ درج کرکے گفتگو کو لاک کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی سے بچوں کو خطرات، امریکا کی 8 ریاستوں کا اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ
لاک کی گئی چیٹس ’پروجیکٹس‘ (Projects) کے اندر ’لاکڈ چیٹس‘ (Locked chats) کے سیکشن میں منتقل ہو جائیں گی جہاں دوبارہ رسائی کے لیے پن کوڈ یا معاون ڈیوائس کی تصدیق درکار ہوگی۔ صارفین ’ان لاک چیٹ‘ (Unlock chat) کا آپشن منتخب کرکے گفتگو کو دوبارہ عام چیٹ ہسٹری میں بھی لا سکتے ہیں۔
پن کوڈ بھولنا پڑ سکتا ہے مہنگا
نئے فیچر کے ساتھ ایک اہم انتباہ بھی سامنے آیا ہے۔ اگر صارف اپنا پن کوڈ بھول جائے اور اسے ری سیٹ کرے تو اس کی تمام لاک شدہ چیٹس مستقل طور پر ڈیلیٹ ہو سکتی ہیں۔ ان گفتگوؤں میں موجود فائلیں اور وہ معلومات بھی ضائع ہو سکتی ہیں جو صرف انہی چیٹس میں محفوظ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی سے نقل کا الزام عائد ہونے پر بھارتی طالب علم نے خودکشی کرلی
رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کی سپورٹ ٹیم بھی حذف شدہ مواد واپس فراہم نہیں کر سکے گی۔ تاہم موجودہ پن کوڈ یاد ہونے کی صورت میں اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اس عمل میں گفتگوؤں کو حذف کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
کیا چیٹ لاک کرنے سے مکمل رازداری یقینی ہو جائے گی؟
چیٹ جی پی ٹی کا نیا لاک فیچر گفتگو کو عام چیٹ ہسٹری اور سرچ نتائج سے چھپانے میں مدد دیتا ہے تاہم یہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم نہیں کرتا اور نہ ہی اوپن اے آئی کی ڈیٹا محفوظ رکھنے کی پالیسیوں کو تبدیل کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی نے نوجوانوں کے لیے زیادہ محفوظ چیٹ جی پی ٹی متعارف کرا دیا
اسی طرح گفتگو کو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی بہتری کے لیے استعمال کرنے سے متعلق ترتیبات بھی اس فیچر سے تبدیل نہیں ہوتیں بلکہ ان کا انحصار صارف کے اکاؤنٹ کی موجودہ سیٹنگز پر ہوتا ہے۔
مزید برآں کسی چیٹ کو لاک کرنے سے اس کا پہلے سے بنایا گیا شیئر لنک خودبخود منسوخ نہیں ہوتا۔ اگر صارف پہلے شیئر کی گئی گفتگو تک دوسروں کی رسائی روکنا چاہتا ہے تو اسے متعلقہ شیئر لنک الگ سے حذف کرنا ہوگا۔
کن صارفین کو یہ سہولت ملے گی؟
اوپن اے آئی کے مطابق یہ فیچر مرحلہ وار فری، گو، پلس، پرو، بزنس، انٹرپرائز اور ایجوکیشن صارفین کے لیے جاری کیا جا رہا ہے۔ یہ ویب، آئی او ایس، اینڈرائیڈ اور ونڈوز و میک او ایس کی نئی ڈیسک ٹاپ ایپس پر دستیاب ہوگا۔ جن صارفین کو فی الحال ’لاک چیٹ‘ کا آپشن نظر نہیں آ رہا انہیں اپنے اکاؤنٹ تک اس فیچر کی رسائی کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ چیٹ لاک کرنے کی سہولت نجی گفتگو کو دوسروں کی فوری رسائی سے محفوظ بنانے میں مددگار ہے تاہم اسے مکمل ڈیجیٹل رازداری یا ڈیٹا کے تحفظ کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔










