چلتی گاڑی میں کتاب پڑھنے یا موبائل دیکھنے سے متلی اور چکر کیوں آنے لگتے ہیں؟

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گاڑی میں سفر کے دوران موبائل فون استعمال کرنے یا کتاب پڑھنے سے بعض افراد کو متلی، چکر، پسینہ آنے اور سر درد کی شکایت ہونے لگتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس کیفیت کی بنیادی وجہ آنکھوں اور اندرونی کان سے دماغ کو ملنے والے اشاروں میں عدم مطابقت ہے جسے طبی اصطلاح میں ’موشن سکنیس‘ کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر روی کمار نے وضاحت کی ہے کہ چلتی گاڑی میں کتاب پڑھتے یا موبائل کی اسکرین دیکھتے وقت آنکھیں ایک ساکن چیز پر مرکوز رہتی ہیں، جبکہ اندرونی کان جسم کی حرکت محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ دماغ کو ملنے والی ان متضاد معلومات کے نتیجے میں متلی اور چکر جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ورزش کے بعد دل کی دھڑکن کتنی جلد معمول پر آتی ہے؟ ایک آسان ٹیسٹ خطرات سے آگاہ کرسکتا ہے

ڈاکٹر روی کمار کے مطابق اندرونی کان جسم کا توازن برقرار رکھنے اور حرکت، سمت اور رفتار میں تبدیلیوں کا احساس دلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب کوئی شخص گاڑی میں سفر کرتے ہوئے مسلسل کتاب یا موبائل کی اسکرین دیکھتا ہے تو آنکھوں اور اندرونی کان کے درمیان معلومات کا تضاد موشن سکنیس کو متحرک کر سکتا ہے۔ بعض افراد کو اس دوران قے، پسینہ آنے اور سر درد کی شکایت بھی ہوتی ہے۔

کن افراد میں موشن سکنیس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

ماہر معالج کے مطابق ہر شخص اس کیفیت سے یکساں طور پر متاثر نہیں ہوتا۔ عمر، جینیاتی رجحان، مائیگرین کی تاریخ اور حسی اشاروں میں تضاد کے لیے حساسیت اس حوالے سے اہم عوامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ رات دیر تک جاگتے ہیں؟ سائنسدانوں نے ذہنی تناؤ اور باڈی کلاک کے درمیان سنسنی خیز تعلق ڈھونڈ نکالا

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بالخصوص 2 سے 12 سال کی عمر کے بچوں میں موشن سکنیس کا امکان زیادہ ہوتا ہے تاہم یہ مسئلہ کسی بھی عمر میں پیش آ سکتا ہے۔ مائیگرین کے مریض بھی سفر کے دوران متلی اور چکر آنے کے لیے زیادہ حساس ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ گاڑی کا بار بار رفتار بڑھانا، اچانک بریک لگانا اور مسلسل موڑ کاٹنا علامات کو شدید کر سکتا ہے۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھ کر کتاب پڑھنے، ہوا کی مناسب آمدورفت نہ ہونے، تیز بو، ذہنی دباؤ، تھکاوٹ اور جسم میں پانی کی کمی سے بھی یہ کیفیت بڑھ سکتی ہے۔

سفر کے دوران متلی اور چکر سے بچنے کے طریقے

ڈاکٹر روی کمار نے مشورہ دیا ہے کہ موشن سکنیس سے بچنے کے لیے گاڑی چلنے کے دوران کتاب پڑھنے یا موبائل فون استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔ اس کے بجائے باہر افق یا دور موجود نسبتاً ساکن اشیا کو دیکھنے سے دماغ کو آنکھوں اور اندرونی کان سے ملنے والی معلومات میں مطابقت پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جوان اور شاداب جلد کے لیے کیا کھائیں؟ جانیے ایسی غذائیں جو جھریاں کم کرتی ہیں

ماہرین کے مطابق گاڑی کی اگلی مسافر نشست پر بیٹھنا، سر کو نسبتاً ساکن رکھنا، ہوا کی مناسب آمدورفت یقینی بنانا اور طویل سفر کے دوران وقفے کرنا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر علامات شدید ہوں تو ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں تاہم موشن سکنیس کی بعض ادویات غنودگی پیدا کرتی ہیں اور ہر شخص کے لیے موزوں نہیں ہوتیں۔

کن علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؟

ماہرین کے مطابق سفر کے دوران کتاب پڑھنے یا موبائل دیکھنے سے ہونے والی موشن سکنیس عموماً بے ضرر ہوتی ہے۔ تاہم اگر سفر کے بغیر بھی بار بار چکر آئیں یا متلی محسوس ہو، سفر ختم ہونے کے بعد علامات برقرار رہیں یا ان کے ساتھ شدید سر درد، سماعت میں تبدیلی، چلنے میں دشواری یا اعصابی علامات ظاہر ہوں تو طبی معائنہ کروانا ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان میں نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام پر قومی بحث کی ضرورت ہے، نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ

’میری بیٹی نے محض 15 سال کی عمر میں قرآن مجید کا اول سے آخر تک مطالعہ کیا تھا‘سابق امریکی صدر بل کلنٹن کا انکشاف

سہ ملکی ون ڈے سیریز: سری لنکا کا انگلینڈ کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

اے ڈی ایچ ڈی کے مریضوں میں قبل از وقت موت کا خطرہ 71 فیصد زیادہ، طبی تحقیق میں انکشاف

پاک چین دوستی پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی کی مضبوط بنیاد ہے، مبارک زیب

ویڈیو

سعودی اور پاکستانی ڈیولپرز متحد، ریئل اسٹیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو زبردستی بات نہیں ہوسکتی، وفاقی وزیر مصدق ملک

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟