موت کے خطرے کی پیش گوئی کرنے والا فٹنس کا آسان ٹیسٹ

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ورزش کے بعد دل کی دھڑکن معمول پر آنے کی رفتار کسی شخص کی قلبی صحت اور مستقبل میں بیماریوں کے خطرے سے متعلق اہم معلومات فراہم کرسکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس رفتار میں غیر معمولی کمی دل کی بیماریوں سمیت دیگر صحت کے مسائل کی ابتدائی علامت ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں:بچوں میں کینسر کی علامات کو نظرانداز نہ کریں، کن نشانیوں پر والدین کو خبردار ہوجانا چاہیے؟

دل کی دھڑکن کی بحالی کی رفتار کو طبی اصطلاح میں ’ہارٹ ریٹ ریکوری‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ورزش ختم کرنے کے فوراً بعد دل کی دھڑکن اور ایک منٹ آرام کے بعد دھڑکن کے درمیان فرق ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ پیمانہ کسی شخص کی مجموعی صحت اور موت کے خطرے سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

رپورٹ میں 1999 میں کلیولینڈ کلینک کے محققین کی ایک تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں قریباً 2 ہزار 400 افراد کی دل کی دھڑکن کی بحالی کا جائزہ لیا گیا اور 6 برس تک ان کی صحت کا مشاہدہ کیا گیا۔ نتائج کے مطابق جن افراد کی دل کی دھڑکن ورزش کے بعد معمول پر آنے کی رفتار کم تھی، ان میں تحقیق کے دوران موت کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں قریباً 4 گنا زیادہ پایا گیا۔ بعد کی تحقیقات میں بھی اس تعلق کی تائید ہوئی ہے۔

دل کی دھڑکن کی بحالی کیسے جانچیں؟

ورزش کے بعد دل کی دھڑکن کی بحالی جانچنے کے لیے اسمارٹ واچ یا نبض گننے کا طریقہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے پہلے ورزش کے فوراً بعد دل کی دھڑکن نوٹ کریں، پھر ایک منٹ آرام کرنے کے بعد دوبارہ دھڑکن گنیں۔ پہلی اور دوسری پیمائش کے درمیان فرق آپ کی ایک منٹ کی بحالی کی رفتار ظاہر کرتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر ورزش کے فوراً بعد دل کی دھڑکن 150 فی منٹ ہو اور ایک منٹ بعد 130 رہ جائے تو بحالی کی رفتار 20 دھڑکن فی منٹ ہوگی۔

پہلے ایک منٹ میں دل کی دھڑکن کا کم از کم 18 دھڑکنیں کم ہونا ایک اچھا اشارہ سمجھا جاسکتا ہے، جبکہ 12 سے کم دھڑکنوں کی کمی صحت کے ممکنہ مسائل کی طرف توجہ دلا سکتی ہے۔ تاہم نتائج کا انحصار عمر، جسمانی فٹنس، ورزش کی نوعیت اور پیمائش کے طریقے پر بھی ہوتا ہے۔ اس لیے ان اعداد کو کسی بیماری کی حتمی تشخیص نہیں سمجھنا چاہیے۔

دل کی دھڑکن جلد معمول پر کیوں آتی ہے؟

ماہرین کے مطابق اس عمل میں اعصابی نظام کا اہم کردار ہے۔ ورزش کے دوران جسم کا ہمدرد اعصابی نظام متحرک ہوجاتا ہے، جس سے دل تیزی سے دھڑکتا ہے اور پٹھوں تک آکسیجن کی فراہمی بڑھ جاتی ہے۔ ورزش رکنے کے بعد پیراسیمپیتھیٹک اعصابی نظام، خصوصاً ویگس عصب، دل کی دھڑکن کو کم کرکے جسم کو آرام کی حالت میں لانے میں مدد دیتا ہے۔

جسمانی فٹنس بہتر ہونے کے ساتھ اعصابی نظام کی یہ تبدیلی زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے۔ اسی لیے دل کی دھڑکن کا ورزش کے بعد نسبتاً تیزی سے کم ہونا قلبی صحت کا ایک مفید اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

معمول کی ورزش سے بہتری ممکن ہے

باقاعدہ جسمانی سرگرمی دل کی دھڑکن کی بحالی بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین تیز قدموں سے چہل قدمی، سائیکل چلانے، تیراکی اور جسمانی استعداد کے مطابق دوڑنے جیسی سرگرمیوں کی سفارش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:ورزش کے بعد دل کی دھڑکن کتنی جلد معمول پر آتی ہے؟ ایک آسان ٹیسٹ خطرات سے آگاہ کرسکتا ہے

تاہم دل کے پہلے سے مریض افراد طبی نگرانی کے بغیر یہ ٹیسٹ کرنے کے لیے سخت ورزش نہ کریں۔ ورزش کے دوران سینے میں درد، چکر آنے یا معمول سے زیادہ سانس پھولنے کی صورت میں فوراً رک کر طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر دل کی دھڑکن معمول پر آنے کی رفتار مسلسل کم ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرکے مکمل قلبی معائنہ کرانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی، جہاں بھی ہوں گے سخت ضرب لگائیں گے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون لانچ ہوتے ہی مقبول، خریداروں کو ڈیلیوری کے لیےکتنا انتظار کرنا پڑے گا؟

پنجاب میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی فروخت بند، اب صرف 10 کلو کا بیگ مارکیٹ میں آئے گا: مریم نواز

جاپان کا مصنوعی ذہانت سے سائبر حملوں کی مشق کا فیصلہ، انٹرنیٹ پر ہنگامی صورتحال

مانگا منڈی میں ڈیلیوری رائیڈر کا قتل، میاں بیوی کو عمر قید کی سزا

ویڈیو

مکہ دفاعی معاہدہ ہر اعتبار سے پاکستان کے لیے فائدہ مند ہیں، پاکستانی خواتین کی رائے

مکہ دفاعی معاہدہ عالم اسلام کے اتحاد کی بنیاد بنے گا، تمام اسلامی ممالک اس میں شامل ہوں، زاہد محمود قاسمی

13 سالہ پی ٹی آئی حکومت: اپر دیر میں بڑے منصوبوں کے محض اعلانات لیکن عملی نتیجہ صفر

کالم / تجزیہ

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ