بنگلادیش کا ابھرتا فاسٹ بولر ایمبولینس میں دم توڑ گیا زندگی کی بازی ہار گیا

اتوار 25 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلادیش کی انڈر 18 کرکٹ ٹیم کے باصلاحیت فاسٹ بولر مہدی حسن ہردوئے خون کے سرطان میں مبتلا ہونے کے بعد علاج کے لیے ڈھاکا منتقل کیے جانے کے دوران انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 18 سال تھی۔

بنگلادیشی میڈیا، بشمول بنگلادیش سنگباد سنگستھا اور روزنامہ ڈھاکا پوسٹ کے مطابق مہدی حسن ہردوئے چٹاگانگ ڈویژن کی انڈر 18 ٹیم کی نمائندگی کرتے تھے اور بائیں ہاتھ سے تیز گیند بازی کرتے تھے۔ انہیں مقامی سطح پر ابھرتا ہوا کھلاڑی سمجھا جاتا تھا اور ان کا خواب قومی ٹیم کی نمائندگی کرنا تھا۔

رپورٹس کے مطابق نوجوان کرکٹر ایکیوٹ مائیلائڈ لیوکیمیا نامی خون کے سرطان میں مبتلا تھے۔ طبیعت بگڑنے پر انہیں بہتر علاج کے لیے ایمبولینس کے ذریعے ڈھاکا لے جایا جا رہا تھا، تاہم وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔

بنگلادیش کرکٹ بورڈ اور وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل نے ان کے علاج کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی تھی۔ رواں سال جولائی میں دونوں اداروں نے ان کے علاج کے لیے 5-5 لاکھ ٹکا دیے تھے، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود ان کی جان نہ بچائی جا سکی۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ میں نیا بحران، سابق صدر نے آئی سی سی سے بڑا مطالبہ کر دیا

بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے مہدی حسن ہردوئے کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی ہے۔ ان کی وفات سے خاندان، دوستوں اور بنگلادیش کے کرکٹ حلقوں میں سوگ کی فضا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp