تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

اتوار 25 اکتوبر 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے سورما اب ایک دوسرے پر پل پڑے ہیں۔ دمشق کی تیز دھار تلوار جیسی زبانیں جو پہلے دوسروں کی گردن سے لپٹ جاتی تھیں، اب ایک دوسرے پر آتش فشاں پھینک رہی ہیں۔ زباں بکف جنگجو ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں ۔ کچھ وہ ہیں جنہیں اپنی عزت کا کچھ پاس ہے۔ وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ بیرون ملک بیٹھے لوگوں سے کہا جائے کہ پارٹی کے بیانیے کے مطابق چلیں۔

کچھ وہ بھی ہیں جن کا صبر کا پیمانہ جواب دے گیا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ بیرون ملک بیٹھے لوگ ملک میں افراتفری چاہتے ہیں، تحریک انصاف کو اداروں سے لڑانا چاہتے ہیں اور یہ کسی کے ایجنڈے پر ہیں۔ یہ نہ پارٹی سے مخلص ہیں، نہ ملک سے مخلص۔

اب اس لڑائی میں کس کی چونچ گم ہوتی ہے اور کس کی دم گم ہوتی ہے، یہ تو وقت بتائے گا۔ تاہم، یہی وہ باتیں تھیں جو ہم جیسے خیرخواہ کہتے تھے تو آگے سے حکمت عملی کے تحت گالیاں دی جاتی تھیں۔

ہم بھی یہی کہتے تھے کہ کوئی سیاسی جماعت اس بدزبانی سے نہیں چل سکتی جس طرح آپ چلانا چاہتے ہیں۔

ہم نے بھی یہی عرض کی تھی کہ پارٹی کا بیانیہ چند مفروروں اور چند یوٹیوبرز کے حوالے نہ کریں، پارٹی کا بیانیہ پارٹی کی اجتماعی دانش کے حوالے کریں۔

ہم نے بھی یہی درخواست کی تھی کہ جس نفرت اور فتنہ انگیزی سے آپ کسی اور کی جنگ کا ایندھن بن جائیں گے، یہ سیاست نہیں ہے۔

ہم نے بھی اتنی سی خواہش کی تھی کہ سیاست بند گلی سے راستے نکالنے کا نام ہے، فتنے پھیلانے کا نام نہیں ہے، لیکن ہماری کسی نے نہیں سنی۔

اب جیسے ہی کے پی کے اقتدار کی چھاؤں سر سے ہٹی ہے، عشق عمران کے اکثر ملنگ سیانے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ یوں کہیے کہ عقل ٹھکانے آ گئی ہے، ہوش بحال ہو گئے ہیں، مدہوشی کی کیفیتختم ہو گئی ہے، جذب و مستی کا عالم اب نہیں رہا۔ اب سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں، کہاں کہاں حماقتیں تعفن دے رہی ہیں اور کہاں کہاں بلنڈرز ہوئے۔

منیر نیازی بھی کہاں یاد آئے:

ہُن جے مِلے تے روک کے پُچّھاں
ویکھیا ای اپنا حال
کِتّھے گئی اوہ رنگت تیری
سِپّاں ورگی چال
گَلّاں کردِیاں گُنڈیاں اَکّھاں
واء نال اُڈدے وال
کِتّھے گئیا اوہ ٹھاٹھاں ماردے
لُہو دا اَنہاں زور
ساہواں ورگی گرم جوانی
لے گئے کیہڑے چور

تحریک انصاف اسم بامسمی ثابت ہوئی ۔ یہ واقعی ایک سونامی تھا۔ اخلاقیات، اقدار، تہذیب، شائستگی، مروت، وضع، سب اس سونامی میں غرق ہو گئے۔ پیچھے بچی صرف بدزبانی۔ جس نے اختلاف کیا،اسے ماں بہن کی گندی گالیاں۔ یہ وہ فن تھا جس میں ان کی مہارت غیر معمولی تھی۔ انہیں گالیاں بکتے دیکھ کر عربی کا مقولہ یاد آ جاتا: لِکُلِّ فَنٍّ رِجَالٌ۔

مکتب ڈی چوک میں چونکہ ان کی تربیت ہی اسی فن میں کی گئی تھی، چنانچہ اب جب یہ آپس میں ایک دوسرے سے الجھے ہیں تو وہی داؤ پیچ استعمال ہو رہے ہیں۔ کوئی ایک ایسا نہیں ہے جس نے دوسرے سے اختلاف کیا ہو تو اسے خائن، بدنیت، غدار، ایجنٹ، ضمیر فروش جیسے القابات سے نوازا نہ ہو۔ تہذیب و شرافت کے ساتھ اختلاف کسی نے انہیں سکھایا ہوتا تو یہ کرتے۔ بس جو سکھایا گیا ہے، اب وہی فن دکھا رہے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ ایک دوسرے پر دکھا رہے ہیں. کیا ساون جیسا حسین منظر ہے۔

ایسا نہیں کہ سبھی ایسے تھے ۔ پارٹی میں بہت سے نجیب چہرے بھی تھے ۔ ہاں مر رسم ایسی چلی کہ معتبر وہ ٹھہرا جس کی زباان کے شر سے کوئی محفوظ نہ ہو۔ وحشت اور جنون نے اس پارٹی کو ایسے گرفت میں لیا کہ الامان۔ ایک سیاسی جماععت کو یوں ضائع نہیں ہونا چاہیے جیسے یہ ضائع ہوئی۔

اب تو تحریک انصاف برف کا ایک باٹ ہے اور دھوپ میں رکھا ہے۔ افغان شاعر امیر جان صبوری یاد آتے ہیں:
شہر خالی، جادہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی
جام خالی، سفرہ خالی، ساغرو پیمانہ خالی
کوچ کردہ،دستہ دستہ، آشنایاں،عندلیباں باغ خالی، باغچہ خالی، شاخہ خالی، لانہ خالی
تحریک انصاف کا باغ بھی سونا ہو رہا ہے، کوچے ویران ہو رہے ہیں۔ دوست دوستوں کو چھوڑ رہے ہیں۔ نہ عارف علویوں کی کوئی خبر ہے نہ عثمان بزداروں کی۔ منڈیریں خالی ہیں اور پرندے اڑ چکے ۔ بزم عشق ویران ہے اور موسیقاروں نے ساز رکھ دیے ہیں۔ سر بکھیرنے والے تار بکھر گئے۔ آشنا نا آشنا ہوتے جا رہے ہیں۔ ویرانے کے پتھروں کی ریت سر میں آ رکی ہے۔ دریا سست چشمے خش اور سونامی نڈھال ہو چکا ہے۔ عشق کی آگ نے اپنے ہی وجود جلا ڈالے ہیں۔

اب ایک نیا کنٹینر تیار کیجیے اور اس کے اوپر لکھیے کہ رُل تے گئے آں، پرچس بڑی آئی اے ۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp