حنا جاوید کے اہلخانہ نے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو خط لکھ کر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اہلخانہ نے پولیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج مسترد کرتے ہوئے کیس کی فائل کا تفصیلی جائزہ لینے اور شفاف تحقیقات یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اہلخانہ نے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب سے براہ راست رابطے کی متعدد کوششیں کر چکے ہیں، تاہم انہیں کامیابی نہیں ملی۔
یہ بھی پڑھیں:حنا جاوید کی گردن ٹوٹی ہوئی تھی، کہنیوں پر بھی گہرے زخم، پوسٹ مارٹم رپورٹ
خط کے مطابق اہلخانہ کا کہنا ہے کہ گھریلو ملازم قتل میں ملوث ہے، لیکن فیصل سے متعلق شواہد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ مقدمہ عدالت میں پیش ہونے سے پہلے پولیس کی تحقیقاتی کمیٹی کسی کو مجرم یا بے گناہ قرار نہیں دے سکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسی ملزم کو تحفظ نہ دیا جائے اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ قتل کیس کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ انہوں نے حنا جاوید کے اہلخانہ سے ملاقات کرنے اور انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔










