چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بعض باصلاحیت کرکٹرز شہرت حاصل کرنے کے بعد محنت کرنا چھوڑ دیتے ہیں، جس کے باعث وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہتے ہیں۔
لاہور قلندرز کی ایک تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ کرکٹ ایسا کھیل ہے جس میں مسلسل محنت اور تربیت ضروری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تقریباً 24 کروڑ آبادی والے ملک میں وسیع ٹیلنٹ کے باوجود قومی ٹیم میں منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کو بنیادی کرکٹ کی تربیت کیوں دینا پڑتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوچز انہیں بتاتے رہے ہیں کہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو مختلف بنیادی مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں۔ محسن نقوی کے مطابق اتنی بڑی آبادی میں سے قومی ٹیم کے لیے 14 کھلاڑی منتخب کرنے کے باوجود اگر انہیں بنیادی چیزیں بھی سکھانا پڑیں تو یہ تشویش کی بات ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ایس ایل 12 کا انعقاد 18 مارچ سے 2 مئی 2027 تک ہوگا، پی سی بی
چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ ان کی تنقید کسی ایک کھلاڑی کے لیے نہیں بلکہ بورڈ کی اپنی غلطیوں سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ نے اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کی ہے اور یہ عمل جاری رہے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کے ٹیلنٹ کو آگے لانے کے لیے پی سی بی، کرکٹ ایسوسی ایشنز اور پاکستان سپر لیگ کی فرنچائزز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ بورڈ اسکول اور ڈومیسٹک کرکٹ کو فروغ دے رہا ہے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے زیادہ مواقع مل سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ پی سی بی کے اسکول کرکٹ پروگرام کے اگلے مرحلے میں 3 ہزار بچوں کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ مزید نوجوان کھلاڑی آئندہ چھ ماہ میں تیار ہو جائیں گے۔ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بھی کھلاڑیوں کی تربیت پر کام جاری ہے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ سری لنکا کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز کے لیے اعلان کردہ ابتدائی اسکواڈ میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسکواڈ میں پہلی مرتبہ شامل ہونے والے بلے بازوں سمیر منہاس، محمد طحہٰ اور محمد سلیمان بھی شامل ہیں، جبکہ سابق کپتان شان مسعود کو ٹیم میں جگہ نہیں ملی اور بابر اعظم کپتان برقرار رہے۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز 9 سے 21 نومبر تک راولپنڈی اور لاہور میں کھیلی جائے گی۔










