برطانوی شاہی خاندان کے اندرونی معاملات پر نظر رکھنے والے معروف شاہی ماہر رچرڈ پالمر نے دعویٰ کیا ہے کہ پرنس ہیری اور میگن مارکل برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ اپنے اختلافات ختم کرنے اور صلح کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے ایک بیان میں رچرڈ پالمر کا کہنا تھا کہ اگرچہ ناقدین اس بات سے اختلاف کر سکتے ہیں، تاہم ڈیوک اور ڈچیس آف سسیکس خاندانی فاصلے مٹانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔
معافی اور پبلک دوروں سے متعلق اہم انکشافات
رچرڈ پالمر نے مزید انکشاف کیا کہ پرنس ہیری اور میگن مارکل ضرورت پڑنے پر معافی مانگنے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پرنس ہیری امریکن زندگی سے اکتا گئے، وطن کی یاد بھی ستانے لگی، امریکا چھوڑ کر برطانیہ واپسی کا بڑا فیصلہ
اس کے علاوہ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ جب تک کنگ چارلس اور پرنس ولیم سرکاری دوروں پر بیرون ملک موجود ہوں گے، یہ جوڑا کسی بھی قسم کے پبلک چیریٹی دورے یا سرگرمیاں انجام نہیں دے گا۔
محل کے اندرونی ذرائع اور اعتماد کے مسائل
دوسری جانب شاہی محل موجودہ صورتحال میں انتہائی کٹھن اور متوازن لکیر پر گامزن ہے۔
رچرڈ پالمر کے مطابق سوشل میڈیا پر بعض مداحوں کی جانب سے پائی جانے والی سختی اور تلخی کے باوجود محل کے درباری اور قریبی ذرائع اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ عام لوگ شاہی خاندان کے افراد کو اپنے اختلافات ہمیشہ کے لیے ختم کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں:بکنگھم پیلس میں شاہی تقریب، پرنس ہیری کی خفیہ شرکت کا انکشاف
تاہم سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا شاہی خاندان پرنس ہیری اور میگن مارکل پر دوبارہ بھروسا کر سکتا ہے؟ محل کے کچھ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ باہمی اعتماد کی بحالی اور پرانے تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے کے لیے تاحال کافی طویل وقت درکار ہے۔
اس پورے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک اور معروف شاہی ماہر فل ڈیمپئر نے سوال اٹھایا کہ رچرڈ! آخر یہ کون کہہ رہا ہے کہ وہ معافی مانگنے والے ہیں؟ میں اس وقت تک اس بات پر یقین نہیں کروں گا جب تک خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں۔
فل ڈیمپئر کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے رچرڈ پالمر نے وضاحت کی کہ اس کا سیاق و سباق دراصل ان مبصرین کا مؤقف ہے جو یہ اصرار کرتے ہیں کہ انہیں لازمی طور پر معافی مانگنی چاہیے، جبکہ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ معافی بھی مانگ لیں گے کیونکہ یہ ان کا ایک نجی خاندانی معاملہ ہے۔
رچرڈ پالمر کا مزید کہنا تھا کہ کچھ لوگ اس پر شک یا تنقید کر سکتے ہیں، لیکن وہ بحیثیت صحافی کہانی کے دونوں رخ سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں شاہی خاندان کے لیے موجود اعتماد کے مسائل بھی شامل ہیں۔











