سپریم کورٹ نے فیصل آباد میں 2016 میں 25 سالہ صائمہ بی بی کے قتل کے مقدمے میں ملزم منور حسین کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرکے منظور کرلیا۔
مزید پڑھیں:پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سپریم کورٹ برہم، ملزم کی عدم گرفتاری پر سخت ریمارکس
سماعت کے دوران مدعی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے صائمہ بی بی کو چھری سے ذبح کرکے قتل کیا تھا۔ ملزم مقتولہ کا ہمسایہ تھا اور اس پر بری نظر رکھتا تھا۔ وکیل کے مطابق مقتولہ کا شوہر، دیور اور ایک تیسرا شخص بھی واقعے کے گواہ تھے۔
جسٹس شہزاد ملک نے استفسار کیا کہ اگر ملزم اکیلا تھا اور واقعے کے 3 گواہ موجود تھے تو انھوں نے اسے روکا کیوں نہیں؟ مقتولہ کو ذبح کیا جا رہا تھا تو عینی شاہدین خاموش تماشائی بنے کیوں کھڑے رہے؟ وکیل نے بتایا کہ قتل سے پہلے مقتولہ کے گلے میں دوپٹہ ڈال کر اسے چارپائی سے باندھا گیا تھا۔
جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل رپورٹ میں دوپٹے کے نشانات کا ذکر نہیں اور سوال اٹھایا کہ دوپٹے کو فرانزک جانچ کے لیے کیوں نہیں بھیجا گیا؟ جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ملزم کی بری نظر رکھنے اور اس سے چھری کی برآمدگی کو اپنے فیصلے میں قابلِ بھروسا نہیں سمجھا۔
جسٹس شہزاد ملک نے مزید نشاندہی کی کہ مدعی اور گواہوں کے مطابق واقعہ صبح ساڑھے 6 بجے پیش آیا، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت اس سے پہلے ہو چکی تھی۔ مدعی کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹ کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے ملزم منور حسین کی درخواست منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ اگر وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے رہا کر دیا جائے۔ واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جسے ہائیکورٹ نے برقرار رکھا تھا۔










