زندگی میں مشکلات اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے بعض افراد ایسی عادات اختیار کرلیتے ہیں جو وقتی طور پر سکون کا احساس تو دیتی ہیں لیکن طویل مدت میں ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کرسکتی ہیں۔ تاہم مثبت طرز زندگی اپنانے، ورزش کرنے اور ضرورت کے وقت ماہرین سے مدد لینے کے ذریعے ان عادات سے نکلنے اور خود اعتمادی بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ورزش اور بھرپور نیند کے بغیر بھی توانا: 80 سالہ ٹرمپ آخر کھاتے کیا ہیں؟
بی بی سی کے مطابق برطانوی جزیرے جرسی سے تعلق رکھنے والی میگ ہیمن کی کہانی بھی اسی حوالے سے ایک مثال ہے جنہوں نے پارٹیوں اور شراب نوشی پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث اپنی ذہنی صحت اور خود اعتمادی متاثر ہونے کے بعد زندگی میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا۔
میگ ہیمن کے مطابق ان کے مسائل کورونا وائرس کی وبا کے دوران شروع ہوئے اور رواں سال کے آغاز تک جاری رہے۔ اس دوران انہیں ایک مشکل جذباتی دور سے بھی گزرنا پڑا، جس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کے معمولات تبدیل کرنے اور اپنی صحت پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔
کورونا وبا اور ذاتی زندگی کی مشکلات
میگ ہیمن نے بتایا کہ کورونا وبا ان کی زندگی کا ایک مشکل ترین دور تھا۔ اسی عرصے میں ان کے تعلقات میں بھی علیحدگی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث وہ جذباتی طور پر پریشان رہیں۔
ان کے مطابق وہ اپنے جذبات کو مناسب طریقے سے سمجھنے اور ان سے نمٹنے میں کامیاب نہیں ہوپارہی تھیں اور اس دوران انہوں نے اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کو نظرانداز کردیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ابتدا میں احساس نہیں ہوا کہ وہ کس قدر ناخوش ہیں لیکن جب انہوں نے اپنی زندگی میں تبدیلی لانا شروع کی تو انہیں اپنی سابقہ کیفیت کا اندازہ ہوا۔
میگ ہیمن کے مطابق جب وہ 30 سال کی عمر کے قریب پہنچیں تو انہیں محسوس ہوا کہ اب اپنی زندگی میں تبدیلی لانے اور اپنی صحت کو ترجیح دینے کا وقت آگیا ہے۔
ورزش سے خود اعتمادی میں اضافہ
اپنی زندگی میں تبدیلی کے لیے میگ ہیمن نے جم میں ورزش کرنے، دوڑ لگانے اور دیگر جسمانی سرگرمیوں کو معمول کا حصہ بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے تھراپی کا سہارا بھی لیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ورزش نے ان کی خود اعتمادی میں نمایاں بہتری لانے میں مدد دی۔
میگ ہیمن نے بتایا کہ جب بھی وہ اداس یا کم حوصلہ محسوس کرتی ہیں تو جم میں ورزش کا ایک اچھا سیشن ان کی کیفیت بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
مزید پڑھیے: ڈیمینشیا سے بچاؤ میں مددگار ورزش سامنے آگئی، تحقیق نے اہم راز بتادیا
ان کے مطابق ذہنی صحت کے لیے تھراپی بھی انتہائی مفید ثابت ہوئی لیکن جسمانی سرگرمیوں نے انہیں اپنی صلاحیتوں پر اعتماد بحال کرنے میں خصوصی مدد فراہم کی۔
دوسروں کو بھی تبدیلی کی ترغیب
میگ ہیمن اب سوشل میڈیا پر اپنے تجربات بھی شیئر کررہی ہیں تاکہ دوسرے افراد کو بھی اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کی ترغیب مل سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے تجربے سے صرف ایک شخص کو بھی اپنی زندگی بہتر بنانے کی تحریک ملتی ہے تو وہ اسے اہم سمجھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایک ہی معمول میں پھنس کر رہ جائے تو اسے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زندگی میں خوشی اور سکون حاصل کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ باہر جانے اور شراب نوشی کرنے کے علاوہ بھی بہت سے راستے موجود ہیں۔
ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے تھراپی کی اہمیت
میگ ہیمن اپنی ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے تھراپسٹ سیلی اگاتھینجیلو سے بھی مدد لے رہی ہیں۔
تھراپسٹ کے مطابق بعض افراد ذہنی دباؤ، جذباتی مشکلات یا دیگر پریشانیوں سے نمٹنے کے لیے شراب نوشی، جوئے یا منشیات سمیت مختلف عادات کا سہارا لیتے ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ رویے مشکلات سے عارضی طور پر بچنے یا ان سے نمٹنے کی کوشش کا حصہ ہوتے ہیں۔
سیلی اگاتھینجیلو نے نوجوان نسل کے تھراپی سے متعلق رویے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نسل ذہنی صحت کے لیے مدد لینے کے حوالے سے زیادہ کھلی سوچ رکھتی ہے۔
ان کے مطابق تھراپسٹ کسی فرد کی مدد ضرور کرسکتا ہے، لیکن زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے متعلقہ شخص کی اپنی کوشش اور عزم بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: 7 دن میں 2 گھنٹے کی ورزش دل کے لیے کتنی فائدہ مند ہے؟
میگ ہیمن کا تجربہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے جسمانی سرگرمیاں، مثبت معمولات اور ضرورت کے مطابق پیشہ ورانہ مدد ایک دوسرے کی معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ تاہم، ہر شخص کے حالات مختلف ہوتے ہیں اور بہتری کے لیے درکار اقدامات بھی اسی کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔











