ڈیمینشیا سے بچاؤ میں مددگار ورزش سامنے آگئی، تحقیق نے اہم راز بتادیا

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہفتے میں باقاعدگی سے طاقت بڑھانے والی ورزش کرنے والے افراد میں قبل از وقت موت، دل کے امراض اور ڈیمینشیا سے متعلق بیماریوں سے موت کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

فوکس نیوز کے مطابق ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ کے محققین نے ایک لاکھ 47 ہزار 374 افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کی جسمانی سرگرمیوں اور صحت سے متعلق معلومات طویل عرصے تک ریکارڈ کی گئیں۔

تحقیق کے مطابق جو افراد ہفتے میں 90 سے 119 منٹ تک طاقت بڑھانے والی ورزش کرتے تھے، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ ورزش نہ کرنے والوں کے مقابلے میں 13 فیصد کم پایا گیا۔ اسی گروپ میں دل کی بیماری سے موت کا خطرہ 19 فیصد جبکہ اعصابی بیماریوں سے موت کا خطرہ 27 فیصد کم تھا۔ ان اعصابی بیماریوں میں زیادہ تر کیسز ڈیمینشیا سے متعلق تھے۔

یہ بھی پڑھیں:صرف 3 منٹ کی تیز رفتار ورزش جسم میں کس قدر تبدیلیاں پیدا کرتی ہے؟

محققین کے مطابق سب سے زیادہ فائدہ ان افراد کو ہوا جو طاقت بڑھانے والی ورزش کے ساتھ ایروبک ورزش بھی کرتے تھے۔ ایسی جسمانی سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لینے والوں میں کم ورزش کرنے والے افراد کے مقابلے میں موت کا مجموعی خطرہ 45 فیصد تک کم پایا گیا۔

تاہم تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ ورزش ہمیشہ زیادہ فائدہ مند نہیں ہوتی۔ ہفتے میں تقریباً 120 منٹ سے زیادہ طاقت بڑھانے والی ورزش کرنے سے موت کے خطرے میں مزید نمایاں کمی نہیں دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق طاقت بڑھانے والی ورزش عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں اور ہڈیوں کو مضبوط رکھنے، جسمانی توازن بہتر بنانے اور روزمرہ کام خود انجام دینے کی صلاحیت برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔

محققین نے واضح کیا کہ تحقیق سے ورزش اور کم شرح اموات کے درمیان تعلق ضرور سامنے آیا ہے، تاہم یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف وزن اٹھانے یا طاقت کی ورزش ہی زیادہ عمر کا براہ راست سبب ہے۔ تحقیق میں زیادہ تر درمیانی اور بڑی عمر کے سفید فام صحت کے شعبے سے وابستہ افراد شامل تھے، اس لیے نتائج کو پوری آبادی پر لاگو کرنے میں احتیاط ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp