پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی تعلقات کثیرالجہتی اسٹریٹجک شراکت داری میں بدل چکے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کی تاریخی دوستی اب کثیرالجہتی اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہوچکی ہے، دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، تجارتی، دفاعی، تعلیمی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون جاری ہے، تاہم اب اقتصادی تعلقات کو بھی سیاسی اور اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جانے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں ترکیہ کے 103ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر ترک سفیر کی رہائش گاہ پر منعقدہ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مئی 2025 میں معرکۂ حق کے دوران جب پاکستان کو بھارت کی کھلی جارحیت کا سامنا تھا اور ملکی خودمختاری کو سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑا تو ترکیہ نے غیر متزلزل عزم اور وابستگی کے ساتھ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک ترکیہ عدالتی تعاون میں پیشرفت، پاکستانی جوڈیشل وفد کا استنبول کا اہم دورہ

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی تاریخی دوستی سیاسی مذاکرات، تجارت و سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم، ثقافت اور عوامی سطح پر روابط سمیت متعدد شعبوں تک پھیل چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 7 اگست کو پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس معاہدے نے اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی توثیق کی۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے ساتھ پاکستان مذاکرات، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون کے احترام اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت جاری رکھے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ اقتصادی، تجارتی، تعلیمی، ثقافتی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کررہے ہیں، جبکہ ترکیہ دفاعی ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو ان کے سیاسی اور اسٹریٹجک روابط کے ہم پلہ ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے ترک کاروباری شخصیات پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، ترک قونصلر جنرل

وزیراعظم نے جولائی میں استنبول میں منعقدہ پاکستان ترکیہ بزنس کانفرنس میں اپنے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ترک سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے کراچی میں صدر رجب طیب اردوان خصوصی اقتصادی زون قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی، اسٹریٹجک محل وقوع اور بڑھتے ہوئے اقتصادی مواقع سرمایہ کاروں کے لیے اہم امکانات فراہم کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے ترک کاروباری شخصیات کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں حصہ لینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی خیرسگالی کو مشترکہ کاروباری منصوبوں، خوشحالی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے بامعنی مواقع میں تبدیل کرنا چاہیے۔

شہباز شریف نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان اور ترکی دو جسم اور ایک جان کی مانند ہیں۔

اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان بھائی چارے کا غیر معمولی رشتہ مشترکہ تاریخ، باہمی اعتماد اور غیر متزلزل یکجہتی پر قائم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مکہ دفاعی معاہدہ تاریخی دستاویز، سعودی ولی عہد پاکستان کے ساتھ آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی وقت کے ساتھ مزید وسیع اور مضبوط ہورہی ہے، جو سرحدوں اور نسلوں سے بالاتر ہے اور مشترکہ اقدار و مقاصد سے تقویت حاصل کرتی ہے۔ وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ترکی خطے اور اس سے آگے امن و استحکام کے فروغ کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp