لاکھوں سال پہلے جب زمین پر دیوقامت جانوروں کی حکمرانی تھی اس وقت آسمانوں پر بھی ایسے خوفناک شکاری پرندے راج کرتے تھے جو اپنے سے کہیں بڑے شکار پر جھپٹنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ہزاروں سال پہلے انسان آئرلینڈ کیسے پہنچے؟ قدیم غاروں کی دریافت نے نیا راز کھول دیا
ان کا شکار صرف چھوٹے جانور ہی نہیں بلکہ انسانوں کے ابتدائی اجداد بھی تھے۔ سائنس دانوں کے مطابق ان دیوقامت پرندوں سے بچنے کی جدوجہد نے ممکنہ طور پر انسانی ارتقا، 2 پیروں پر چلنے، اجتماعی زندگی اور حتیٰ کہ زبان کی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
تقریباً 28 لاکھ سال پہلے جنوبی افریقہ کے ایک گھاس زار میں انسانی نسل سے تعلق رکھنے والا تقریباً 3 سالہ بچہ گھوم رہا تھا۔ یہ بچہ آسٹرالوپیتھیکس افریکانس نسل سے تعلق رکھتا تھا اور اسے بعد میں ’تاؤنگ چائلڈ‘ کے نام سے پہچانا گیا۔ اچانک ایک بہت بڑا شکاری پرندہ آسمان سے نیچے جھپٹا اور اسے اٹھا کر لے گیا۔
ماہرین کو یقین سے معلوم نہیں کہ اس بچے کو کس پرندے نے شکار کیا تھا تاہم اس کی آنکھوں کے نیچے کھوپڑی پر موجود سوراخوں کے نشانات عقاب کے پنجوں سے ملتے جلتے ہیں۔ شکاری عقاب عموماً اپنے شکار کو پنجوں میں دبوچتے ہیں بعض اوقات شکار کا کچھ حصہ درخت پر لے جا کر محفوظ کرتے ہیں اور باقی اپنے گھونسلے میں لے جاتے ہیں۔
ڈائنوسار کے خاتمے کے بعد دیوقامت پرندوں کا دور
غیر پرندہ ڈائنوسارز کے خاتمے کے بعد زمین پر ماحولیاتی نظام میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ ابتدائی دور میں خوراک کی کمی اور شکاری جانوروں کی عدم موجودگی نے بعض چھوٹے زمینی پرندوں کو ارتقا کے ذریعے دیوقامت جسامت اختیار کرنے کا موقع دیا۔
ان میں کچھ پرندے سبزی خور تھے، جیسے آسٹریلیا کے ڈرومورنتھڈے، جنہیں ’تباہی کے دیو ہیکل بطخ نما پرندے‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جدید بطخوں سے مشابہت رکھتے تھے لیکن جسامت اور وزن میں غیرمعمولی طور پر بڑے تھے۔
مزید پڑھیے: برطانیہ میں آگ جلانے کے سب سے قدیم آثار دریافت، انسانی تاریخ کی ٹائم لائن بدل گئی
کچھ پرندوں نے سمندروں پر حکمرانی کی۔ ان میں پیلاگورنس سینڈرسی بھی شامل تھا جسے اب تک کا سب سے بڑا معلوم اڑنے والا پرندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً 7 میٹر یعنی 24 فٹ تک تھا۔
تاہم بعض پرندوں نے خشکی پر موجود بڑے شکاری جانوروں کی جگہ لے لی۔ جہاں بڑے شکار کی موجودگی تھی وہاں ان سے بھی بڑے شکاری پرندے ارتقا پذیر ہوئے۔ یہی وہ دیوقامت پرندے تھے جن کے ساتھ ہمارے ابتدائی انسانی اجداد کو بھی مقابلہ کرنا پڑا۔
عقاب لاکھوں سال سے بندروں اور انسانوں کے اجداد کا شکار کرتے آئے ہیں
امریکا کی اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ حیوانات اسکاٹ میک گراؤ کے مطابق جب سے دنیا میں بندروں اور ان جیسے جانوروں کا وجود ہے تب سے شکاری پرندے بھی ان کا شکار کرتے آرہے ہیں۔ ان کے بقول اس شکار میں انسان اور ان کے قریبی اجداد بھی شامل رہے ہیں۔
اس نظریے کے حق میں جدید دور کے شواہد بھی موجود ہیں۔ میک گراؤ نے آئیوری کوسٹ کے تائی جنگل میں شکاری پرندوں، خصوصاً افریقی کراؤنڈ عقابوں کے ہاتھوں مارے جانے والے 600 سے زائد بندروں کی باقیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ان کی کھوپڑیوں پر موجود نشانات کا موازنہ تاؤنگ چائلڈ کی باقیات سے کیا تو حیران کن مماثلت سامنے آئی۔
بعض بندروں کی کھوپڑیوں میں آنکھوں کے خول کے نچلے حصے کو نقصان پہنچا تھا۔ ماہرین کے مطابق عقاب اپنی چونچ یا پنجوں سے شکار کی آنکھیں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک محقق نے پرانی انسانی باقیات کا دوبارہ جائزہ لیا تو اسے بھی اسی نوعیت کے نشانات ملے۔
مزید پڑھیں: ابتدا میں انسان کس خطے میں مقیم تھا، قدیم کھوپڑی نے نئے راز کھول دیے
میک گراؤ کا خیال ہے کہ شکاری پرندے معمول کے مطابق ہمارے انسانی اجداد کو بھی شکار کرتے رہے ہوں گے۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ شکاری پرندوں سے بچنے کی ضرورت نے انسانی نسل سمیت تمام پرائمیٹس کے ارتقا پر اہم اثر ڈالا ہو۔
شکاری پرندوں سے بچنے کے لیے انسانوں نے کیا تبدیلیاں اختیار کیں؟
برطانیہ کی یونیورسٹی آف برائٹن کے ماہرِ آثارِ قدیمہ جیمز کول کے مطابق قدیم انسان مختلف شکاری جانوروں کا شکار بنتے رہے، جن میں عقاب، تیندوے، لگڑ بھگڑ اور دیوقامت مگرمچھ شامل تھے۔ ان خطرات سے بچنے کی ضرورت نے انسانی جسمانی اور ذہنی ارتقا پر اثر ڈالا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق دو پیروں پر سیدھا کھڑا ہونا انسانوں کے لیے دور سے شکاری جانوروں کو دیکھنے اور خطرے کو بروقت بھانپنے میں مددگار ثابت ہوا ہوگا۔ اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، اجتماعی تحفظ اور بڑے گروہوں میں رہنے کی عادت بھی شکاریوں سے بچاؤ کا ذریعہ بنی۔
اسکاٹ میک گراؤ کے مطابق جتنا بڑا انسانی گروہ ہوتا، اتنے ہی زیادہ افراد اردگرد نظر رکھ سکتے تھے۔ اس تصور کو ’کئی آنکھوں کا اثر‘ کہا جاتا ہے، یعنی زیادہ افراد کی موجودگی میں اچانک حملے کا خطرہ پہلے ہی محسوس کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: انسان کے مزاج کتنی اقسام کے، قدیم نظریہ کیا ہے؟
شیر اور بھیڑیے جیسے شکاری اپنے شکار کا تعاقب کرتے ہیں لیکن عقاب اور دوسرے شکاری پرندے عموماً چھپ کر حملہ کرتے ہیں۔ افریقی کراؤنڈ عقاب درختوں میں چھپ کر شکار پر نظر رکھتے ہیں اور مناسب موقع ملتے ہی اچانک جھپٹتے ہیں۔ اس لیے ممکن ہے کہ انسانی گروہوں میں ایک دوسرے کی نگرانی اور اجتماعی تحفظ کی اہمیت خاص طور پر ان فضائی شکاریوں کے باعث بڑھی ہو۔
کیا شکاری پرندوں کے خوف نے زبان کی ابتدا میں بھی کردار ادا کیا؟
ماہرین کے مطابق بڑے انسانی گروہوں میں رہنے سے افراد کے درمیان کام تقسیم کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنے کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہوگی۔
جیمز کول کا کہنا ہے کہ جب کسی گروہ کے کچھ افراد ایک کام اور دوسرے افراد کوئی مختلف کام انجام دیتے ہیں تو ان کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی ضروری ہوجاتی ہے۔ صرف ہاتھ کے اشاروں سے اس وقت تک بات ممکن ہوتی ہے جب تک افراد ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہوں لیکن جب کسی خطرے سے دور موجود لوگوں کو خبردار کرنا ہو تو آواز اور زبان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: قدیم دور کے انسانی ڈھانچوں میں پایا جانے والا وائرس آج بھی لوگوں کے پیچھے
اسکاٹ میک گراؤ کے مطابق زیادہ تر بندر مختلف شکاری جانوروں کے لیے عمومی خطرے کی آواز نکالتے ہیں، مثلاً شیر یا تیندوے کی موجودگی پر ایک جیسی آواز دے سکتے ہیں۔ لیکن شکاری پرندوں کے معاملے میں وہ مخصوص آوازیں استعمال کرتے ہیں۔
ان کے خیال میں خطرے کی نوعیت کے مطابق مختلف آوازوں کے ذریعے خبردار کرنے کا یہ رویہ انسانی زبان کے ارتقا کی ابتدائی شکلوں میں سے ایک ہوسکتا ہے۔
امریکا اور نیوزی لینڈ کے دیوقامت عقاب اور خوفناک پرندےماہرین کے مطابق دیوقامت شکاری پرندوں اور انسانی اجداد کا سب سے نمایاں تعلق ممکنہ طور پر براعظم امریکا میں رہا۔

ابتدائی امریکی انسانوں کا سامنا ٹیراٹورنز نامی دیوقامت گوشت خور پرندوں سے ہوا ہوگا۔ ان کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً 6 میٹر یعنی 20 فٹ تک تھا۔ یہ گدھوں سے مشابہت رکھتے تھے اور مردار کھانے کے ساتھ زندہ جانوروں کا شکار بھی کرتے تھے۔ بعض پرندے اپنے شکار کو پورا نگلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم کی سینئر کیوریٹر جوان کوپر کے مطابق یہ پرندے تقریباً ڈھائی کروڑ سال تک آسمانوں پر موجود رہے اور لگ بھگ 10 ہزار سال پہلے معدوم ہوئے یعنی اس وقت تک جب انسان امریکا میں آباد ہوچکے تھے۔
ممکن ہے کہ مقامی امریکی ثقافتوں میں پائے جانے والے ’تھنڈر برڈ‘ کے دیومالائی کردار کی بنیاد بھی انہی پرندوں پر ہو۔ مقامی امریکی روایات میں تھنڈر برڈ کو غیرمعمولی بڑے پروں والا پرندہ تصور کیا جاتا ہے جو گرج چمک اور بجلی پر اختیار رکھتا ہے۔
مزید پڑھیے: سیاح کی ایک تصویر نے 12 کروڑ سال قدیم ڈائنوسار کے آثار کا سراغ لگانے میں کیسے مدد کی؟
کیلیفورنیا اور نیواڈا کے علاقوں میں پائے جانے والے ’آئیولورنس انکریڈیبیل ‘ نامی پرندے کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً ساڑھے 5 میٹر تھا، جبکہ اوریگن میں ملنے والے ’ٹیراٹورنِس ووڈبرنینسس‘ کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً 4 میٹر تھا۔ اس کی باقیات میمتھ، ماسٹوڈون، دیوقامت زمینی کاہل جانوروں اور ابتدائی انسانوں کی باقیات کے ساتھ ملی ہیں۔
نیوزی لینڈ میں ماوری قوم کی روایات میں ’تے ہوکیوئی‘ نامی ایک دیوقامت عقاب کا ذکر ملتا ہے جو بچوں کو اٹھا کر لے جاتا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس داستان کی بنیاد حقیقت میں موجود ہاسٹ عقاب ہوسکتا ہے۔
جوان کوپر کے مطابق ہاسٹ عقاب ایک اڑنے والے شیر کی مانند تھا۔ اس کا وزن دنیا کے بڑے عقابوں میں شمار ہونے والے ہارپی عقاب سے تقریباً دوگنا تھا۔ یہ پرندہ 4 میٹر تک بلند ہونے والے دیوقامت موآ پرندے کا شکار کرتا تھا۔ یہ تیزی سے نیچے جھپٹتا اور اپنے تقریباً 10 سینٹی میٹر لمبے پنجوں سے شکار کی پشت پر حملہ کرکے اسے زمین پر گرا دیتا تھا۔
موآ پرندوں کی بعض باقیات پر ہاسٹ عقاب کے بڑے پنجوں کے نشانات ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ عقاب انسانوں پر بھی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور بچے خاص طور پر اس کے لیے آسان شکار ہوسکتے تھے۔
ممکن ہے کہ نیوزی لینڈ کی ماوری روایات، شمالی امریکا کی کہانیوں اور یونانی دیومالا میں بچوں کو اٹھا لے جانے والے پرندوں کا تصور بھی انہی قدیم شکاری پرندوں سے جڑا ہو۔
دیوقامت شکاری پرندے کب معدوم ہوئے؟
ماہرین کے مطابق دیوقامت شکاری پرندوں نے تقریباً 5 کروڑ سال تک آسمانوں پر حکمرانی کی۔ پھر تقریباً 26 لاکھ سال پہلے زمین پلائسٹوسین کے عظیم برفانی دور میں داخل ہوئی جس کے دوران موسم اور ماحول میں شدید تبدیلیاں آئیں۔ اسی دور میں انسانی ارتقا نے بھی تیزی سے پیش رفت کی۔
یہ بھی پڑھیں: اچھی نیند کا ایسا راز جو شکاری قبائل آج بھی جانتے ہیں لیکن جدید انسان بھول گیا، جانیے اہم گُر
اس دور کے اختتام تک، تقریباً 11 ہزار 700 سال پہلے، میمتھ اور دیگر دیوقامت ممالیہ جانوروں کے ساتھ بڑے شکاری پرندے بھی تقریباً معدوم ہوچکے تھے۔ ماہرین اب تک اس بات پر متفق نہیں کہ ان جانوروں کے خاتمے کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں تھیں یا انسانی شکار۔

تاہم انسانی آبادی کے پھیلاؤ اور ماحول میں انسانوں کی مداخلت کے ساتھ دیوقامت جانوروں کی بڑی تعداد ختم ہوتی گئی۔ بعض اندازوں کے مطابق ان میں سے 95 فیصد تک جانور معدوم ہوگئے۔
جوان کوپر کے مطابق انسان اور یہ دیوقامت جانور ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے میں رہے، کبھی انسان انہیں شکار کرنے کی کوشش کرتے اور کبھی وہ انسانوں کے لیے خطرہ بنتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی انسان شکاری پرندوں سے متاثر اور ان کی طرف متوجہ تو ہوتے ہیں لیکن ان کے ساتھ رہنے میں مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتے۔
مزید پڑھیے: ’بِگ ُفٹ’ انسان اور نینڈرتھل کا ملاپ ہے؟ مبینہ باقیات ملنے اور ڈین این اے تجزیے کا نیا دعویٰ
برفانی دور کے خاتمے کے بعد موسم نسبتاً مستحکم ہوا، گلیشیئرز پیچھے ہٹنے لگے اور انسانوں نے زراعت کا آغاز کیا۔ یوں زمین پر ایک نئے دور کا آغاز ہوا جسے انسانی دور کہا جاسکتا ہے۔











