امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی جنگ کو سفارتی طور پر حل کرنا چاہیں گے اور فوجی طاقت استعمال نہ کرنا ان کی ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات کل ہوں گے، ٹرمپ کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان میں سخت مقابلے کا سامنا
ہفتے کے آخر میں صحافیوں سے گفتگو میں روبیو نے کہا کہ ٹرمپ نے کوئی فیصلہ نہیں کیا اور صدر آپ سے جس اعتماد کا اظہار کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر ہمیں فوجی طور پر کچھ کرنے کی ضرورت پڑی تو ہم میں ایسا کرنے کی صلاحیت ہوگی اور ہمارے پاس کامیاب ہونے کے لیے درکار ہر چیز موجود ہے لیکن ہم اسے پرامن طریقے سے کرنا پسند کریں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات ہیں کہ دونوں فریق وسط مدتی انتخابات کے بعد مزید فوجی حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔
ہفتے کو ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کی مسلح افواج سے کہا کہ وہ کسی بھی سطح یا نوعیت کے خطرے کا فوری، مؤثر اور جغرافیائی طور پر غیر محدود جواب دیں۔
انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ فوجی ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کیا جائے تاکہ امریکی صیہونی دشمن کے تمام قسم کے مادی اور غیر مادی اثاثے مسلح افواج کی پہنچ میں آ جائیں جس سے ان کی مراد امریکی اور اسرائیلی افواج ہیں۔
مزید پڑھیے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 منٹ میں ایرانی ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کی دھمکی دے دی
امریکا نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ وہ ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکا 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ نئی فوجی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔
اتوار کو ٹرمپ نے رائٹ سائیڈ براڈکاسٹنگ نیٹ ورک سے کہا کہ ہمیں ایسی فتح حاصل ہوئی ہے اور ہم اسے بہت جلد ایک نہ ایک طرح سمیٹ دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یا تو وہ معاہدہ کر لیں گے یا ہم اسے بس ختم کر دیں گے۔
ایران کا برطانوی انٹیلی جنس کو نشانہ بنانا
اتوار کو ایران کی وزارت خارجہ نے برطانیہ کی ملٹری انٹیلی جنس سروسز کو دشمن گروہ قرار دیا اور رائل نیوی اور ایئر فورس پر دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کا الزام لگایا۔
ٹیلی گرام پوسٹ میں وزارت نے کہا کہ یہ اقدام لندن کے بدنیتی پر مبنی اقدامات کا جواب ہے جن میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم” قرار دینا شامل ہے۔
تہران نے الگ سے برطانیہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے امریکی افواج کو برطانوی فوجی اور لاجسٹک اڈوں تک رسائی دے کر ایران امریکا جنگ میں حصہ لیا ہے۔
مزید پڑھیں: ’ٹرمپ نے ہمیں دھوکا دیا‘، ایریزونا میں بھی ری پبلیکن پارٹی کے لوگوں نے منہ پھیر لیا
بی بی سی کے مطابق برطانیہ نے امریکی افواج کو ایران پر دفاعی حملوں کے لیے آر اے ایف فیئرفورڈ اور ڈیاگو گارشیا استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔











