ہماری آنکھوں کا رنگ، بالوں کی ساخت، جسمانی خصوصیات اور بعض بیماریوں کا خطرہ ان سب کا تعلق کسی نہ کسی طرح ہمارے جسم میں موجود ایک اہم حیاتیاتی مالیکیول سے ہے جسے ڈی این اے کہا جاتا ہے۔ یہ ایسا قدرتی نظام ہے جس میں کسی جاندار کی نشوونما، جسمانی افعال اور افزائشِ نسل کے لیے ضروری جینیاتی معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جینیٹکس کی دنیا میں بڑی پیشرفت: گوگل ڈیپ مائنڈ نے انسانی ڈی این اے کی 9 ارب تبدیلیوں کی میپنگ کر لی
انسانی جسم کے تقریباً ہر خلیے میں ڈی این اے موجود ہوتا ہے۔ یہی جینیاتی معلومات والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں اور ہر فرد کو دوسروں سے منفرد بنانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ ڈی این اے میں معمولی تبدیلیاں بھی جسمانی خصوصیات میں فرق پیدا کرسکتی ہیں جبکہ بعض تبدیلیاں مخصوص بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔
آسان الفاظ میں ڈی این اے کو زندگی کا ایک بنیادی نقشہ کہا جاسکتا ہے جس میں جسم کی تعمیر اور اسے چلانے سے متعلق ہدایات محفوظ ہوتی ہیں۔
ڈی این اے کیا ہے؟
ڈی این اے کا مکمل نام ڈی آکسی رائبونیوکلک ایسڈ ہے۔ یہ ایک طویل مالیکیول ہے جس میں کسی جاندار کا جینیاتی کوڈ موجود ہوتا ہے۔ اس کوڈ میں وہ ہدایات محفوظ ہوتی ہیں جن کی مدد سے جسم کے خلیے مختلف پروٹین بناتے ہیں۔ یہ پروٹین جسم کی نشوونما، خلیوں کے کام کرنے اور زندگی کے مختلف حیاتیاتی عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈی این اے والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔ عام طور پر بچے کا تقریباً نصف ڈی این اے والد اور نصف والدہ سے آتا ہے۔
ڈی این اے کی ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اگر انسانی جسم کے صرف ایک خلیے میں موجود ڈی این اے کو کھول کر سیدھا کیا جائے تو اس کی لمبائی 2 میٹر سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے، حالانکہ یہ ایک نہایت چھوٹے خلیے کے اندر موجود ہوتا ہے۔
ڈی این اے کی ساخت کیسی ہوتی ہے؟
ڈی این اے 2 لمبی لڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے گرد بل کھاتی ہوئی مخصوص شکل اختیار کرتی ہیں۔ اس ساخت کو ڈبل ہیلکس کہا جاتا ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے آپ ایک ایسی سیڑھی کا تصور کرسکتے ہیں جس کے دونوں کنارے آپس میں بل کھائے ہوئے ہوں۔
ڈی این اے کی ہر لڑی چھوٹے چھوٹے بنیادی اجزا سے بنتی ہے جنہیں نیوکلیوٹائڈز کہا جاتا ہے۔ ہر نیوکلیوٹائڈ کے 3 حصے ہوتے ہیں۔
ڈی آکسی رائبوز نامی شکر جس میں کاربن کے 5 ایٹم ہوتے ہیں۔ نائٹروجن پر مشتمل ایک بنیادی جز جسے بیس کہا جاتا ہے۔ ڈی این اے میں نائٹروجن والے 4 بنیادی اجزا پائے جاتے ہیں جن کے نام ایڈینین (اے)، سائٹوسین (سی)، گوانین (جی) اور تھائمین (ٹی) ہیں۔ ان چاروں کی مخصوص ترتیب ہی جینیاتی کوڈ بناتی ہے۔ ڈی این اے کی دونوں لڑیوں میں ایڈینین ہمیشہ تھائمین کے ساتھ جبکہ گوانین ہمیشہ سائٹوسین کے ساتھ جڑتا ہے۔ یوں یہ اجزا سیڑھی کے پائیدانوں کی طرح ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔
جینز اور ڈی این اے میں کیا فرق ہے؟
ڈی این اے اور جینز کا آپس میں گہرا تعلق ہے لیکن یہ دونوں ایک چیز نہیں ہیں۔ ڈی این اے وہ مکمل مالیکیول ہے جس میں جینیاتی معلومات محفوظ ہوتی ہیں جبکہ جینز ڈی این اے کے مخصوص حصے ہوتے ہیں جن میں کسی خاص پروٹین کی تیاری سے متعلق ہدایات موجود ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے: روس میں نیپولین کے 3 لاکھ فوجی کیسے مرے؟ قبرستان سے حاصل شدہ ڈین این اے سے نئے انکشافات
مثال کے طور پر انسولین نامی ہارمون کی تیاری کے لیے بھی ایک مخصوص جین ہدایات فراہم کرتا ہے۔ انسولین خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
انسانوں میں تقریباً 20 ہزار جینز موجود ہیں، اگرچہ ان کی تعداد کے اندازوں میں کچھ فرق ہوسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈی این اے کا صرف تقریباً ایک فیصد حصہ پروٹین بنانے والے جینز پر مشتمل سمجھا جاتا ہے۔ باقی حصوں کے افعال پر سائنس دان تحقیق کررہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے حصے جینز کی سرگرمی کو منظم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
انسانی کروموسومز میں سب سے بڑا کروموسوم نمبر ایک ہے، جس میں تقریباً 2800 جینز موجود ہیں جبکہ نسبتاً چھوٹے کروموسوم نمبر 22 میں تقریباً 750 جینز پائے جاتے ہیں۔
ڈی این اے جسم کے اندر کیسے کام کرتا ہے؟
ڈی این اے کا زیادہ تر حصہ خلیوں کے مرکزے میں موجود ہوتا ہے تاہم اس کا کچھ حصہ مائٹوکانڈریا میں بھی پایا جاتا ہے۔ مائٹوکانڈریا کو خلیے کا توانائی پیدا کرنے والا مرکز بھی کہا جاتا ہے۔
چونکہ ڈی این اے بہت طویل ہوتا ہے اور خلیے کا مرکزہ انتہائی چھوٹا، اس لیے اسے خاص انداز میں لپیٹ کر محفوظ کیا جاتا ہے۔
ڈی این اے کی لڑیاں ہسٹونز نامی پروٹینز کے گرد لپٹتی اور بل کھاتی ہیں۔ اس حالت میں ڈی این اے اور پروٹین کے مجموعے کو کرومیٹن کہا جاتا ہے۔ یہ مزید سکڑ کر منظم ساختیں بناتا ہے جنہیں کروموسومز کہتے ہیں۔
انسان کے جسم کے عام خلیوں میں 23 جوڑے یعنی مجموعی طور پر 46 کروموسومز ہوتے ہیں۔ ہر کروموسوم میں ڈی این اے کا ایک طویل مالیکیول موجود ہوتا ہے۔
ڈی این اے سے پروٹین کیسے بنتے ہیں؟
ڈی این اے میں موجود معلومات کو جسم کے لیے ضروری پروٹین بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عمل بنیادی طور پر دو مراحل میں مکمل ہوتا ہے۔
پہلا مرحلہ: ٹرانسکرپشن
اس مرحلے میں ڈی این اے میں موجود جینیاتی ہدایات کی ایک نقل میسنجر آر این اے کی شکل میں تیار ہوتی ہے۔ آر این اے بھی جینیاتی معلومات لے جانے والا مالیکیول ہے لیکن یہ عموماً ڈی این اے کی طرح دو کے بجائے ایک لڑی پر مشتمل ہوتا ہے۔
ڈی این اے میں موجود تھائمین (ٹی) کی جگہ آر این اے میں یوراسل (یو) نامی جز پایا جاتا ہے۔
دوسرا مرحلہ: ٹرانسلیشن
اس مرحلے میں میسنجر آر این اے میں موجود معلومات کی مدد سے پروٹین تیار ہوتا ہے۔ آر این اے میں 3،3 بنیادی اجزا کے مجموعے ہوتے ہیں جنہیں کوڈونز کہا جاتا ہے۔ ہر کوڈون کسی مخصوص امینو ایسڈ کی نشاندہی کرتا ہے۔
امینو ایسڈز پروٹین بنانے والے بنیادی اجزا ہیں۔ انسانی جسم میں پروٹین کی تیاری کے لیے 20 مختلف امینو ایسڈز استعمال ہوتے ہیں۔ یہ آپس میں جڑ کر مختلف پروٹین بناتے ہیں جو جسم کے خلیوں اور بافتوں کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
ٹیلومیرز کیا ہیں اور ان کا عمر بڑھنے سے کیا تعلق ہے؟
ڈی این اے کے حوالے سے ایک اہم اصطلاح ٹیلومیرز بھی ہے۔ یہ کروموسومز کے سروں پر موجود ڈی این اے کے مخصوص بار بار دہرائے جانے والے حصے ہوتے ہیں جو کروموسومز کو نقصان پہنچنے یا ایک دوسرے کے ساتھ غیرضروری طور پر جڑنے سے بچاتے ہیں۔
انہیں جوتوں کے تسموں کے سروں پر لگے پلاسٹک کے چھوٹے ٹکڑوں سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جو تسموں کو ادھڑنے سے محفوظ رکھتے ہیں۔
عمر بڑھنے کے ساتھ ٹیلومیرز کی لمبائی بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ جب بھی کوئی خلیہ تقسیم ہوتا ہے اور ڈی این اے کی نقل تیار ہوتی ہے تو ٹیلومیرز مزید چھوٹے ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے سائنس دان ان کا مطالعہ عمر بڑھنے اور خلیوں کی صحت کو سمجھنے کے لیے کرتے ہیں۔
ڈی این اے میں تبدیلیاں صحت کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟
وقت گزرنے کے ساتھ ڈی این اے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بعض اوقات اس کے جینیاتی کوڈ میں اچانک تبدیلی بھی واقع ہوتی ہے جسے میوٹیشن کہا جاتا ہے۔ ہر تبدیلی لازماً نقصان دہ نہیں ہوتی لیکن بعض جینیاتی تبدیلیاں بیماریوں یا صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔
کچھ افراد ایسی جینیاتی تبدیلیاں والدین سے وراثت میں حاصل کرتے ہیں جبکہ بعض تبدیلیاں زندگی کے دوران بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔ ماحول میں موجود تابکاری، بھاری دھاتوں اور دیگر نقصان دہ عوامل سے بھی ڈی این اے متاثر ہوسکتا ہے۔
ڈی این اے کو نقصان پہنچنے یا اس کی ساخت میں تبدیلی کی چند وجوہات یہ ہوسکتی ہیں۔ ڈی این اے کی نقل تیار ہونے کے دوران بنیادی اجزا کا غلط ترتیب سے جڑ جانا۔ ڈی این اے میں کسی بنیادی جز یا جوڑے کا غائب ہوجانا۔ اضافی بنیادی جز یا جوڑے کا شامل ہوجانا۔
ڈی این اے کی نقل یا جینیاتی معلومات کے تبادلے کے عمل میں خرابی۔ تابکاری یا بھاری دھاتوں جیسے ماحولیاتی عوامل کا اثر۔ ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے عمل میں خرابی اور کروموسومز کی تعداد یا ساخت میں تبدیلی۔
بعض بیماریوں کا تعلق صرف ایک جین میں خرابی سے ہوسکتا ہے جبکہ کچھ بیماریوں میں ڈی این اے کے کئی حصے متاثر ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سائنسدانوں کی بڑی پیشرفت: لیب میں تیار کردہ ڈی این اے سے مصنوعی خلیہ بنانے کا دعویٰ
مثال کے طور پر سسٹک فائبروسس ایک مخصوص جینیاتی تبدیلی سے وابستہ بیماری ہے، جبکہ کینسر میں ڈی این اے کے مختلف حصوں میں تبدیلیاں کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اسی طرح بعض خودکار مدافعتی بیماریاں، طویل مدتی سوزش سے متعلق بیماریاں اور ہنٹنگٹن جیسی اعصابی بیماریوں کا تعلق بھی جینیاتی عوامل سے ہوسکتا ہے۔
ڈی این اے کس نے دریافت کیا تھا؟
ڈی این اے کی دریافت کا سہرا سوئٹزرلینڈ کے سائنس دان فریڈرک میشر کے سر جاتا ہے، جنہوں نے سنہ 1860 کی دہائی کے آخری برسوں میں انسانی پیپ کے خلیوں سے اس مادے کو الگ کیا تھا۔
اس وقت وہ اس مادے کی مکمل اہمیت سے واقف نہیں تھے تاہم ان کی تحقیق نے بعد میں ڈی این اے کو سمجھنے کے لیے بنیاد فراہم کی۔
کیا ڈی این اے کی مختلف اقسام بھی ہوتی ہیں؟
ڈی این اے کی ساخت میں معمولی فرق کے باعث اس کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں۔ ان میں سب سے عام قسم بی ڈی این اے ہے۔ اس کے علاوہ اے ڈی این اے، ایچ ڈی این اے اور زیڈ ڈی این اے جیسی ساختیں بھی پائی جاتی ہیں۔
ڈی این اے کی نقل کیسے بنتی ہے؟
جب جسم کا کوئی خلیہ تقسیم ہوتا ہے تو نئے بننے والے خلیوں کو بھی جینیاتی معلومات درکار ہوتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ڈی این اے اپنی ایک نقل تیار کرتا ہے۔ اس عمل کو ڈی این اے ریپلیکیشن کہا جاتا ہے۔
اس عمل کی بدولت خلیے کی تقسیم کے بعد بننے والے نئے خلیوں کو جینیاتی مواد کی مکمل نقل مل سکتی ہے جو جسم کی نشوونما اور بافتوں کی مرمت کے لیے ضروری ہے۔
کیا جینیاتی بیماریوں کا علاج ممکن ہے؟
جینیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کون سا جین متاثر ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں جسم کا کون سا نظام متاثر ہورہا ہے۔
بعض بیماریوں میں ڈاکٹر علامات کو قابو میں رکھنے اور پیچیدگیوں سے بچانے کے لیے علاج فراہم کرتے ہیں۔ تاہم سائنس دان جین تھراپی سمیت جدید طریقوں پر تحقیق کررہے ہیں جن کے ذریعے خراب جین کے اثرات کو کم کرنے یا اس کی جگہ درست جینیاتی ہدایات فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
امریکا کے ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے بعض جین تھراپی ادویات کی منظوری بھی دی ہے جبکہ دیگر طریقے ابھی طبی آزمائشوں کے مراحل میں ہیں۔
ڈی این اے زندگی کا بنیادی نقشہ کیوں ہے؟
ڈی این اے ہر جاندار کی نشوونما، جسمانی افعال اور افزائشِ نسل کے لیے ضروری جینیاتی معلومات محفوظ رکھتا ہے۔ یہ معلومات جینز کے ذریعے جسم کو مختلف پروٹین بنانے کی ہدایات فراہم کرتی ہیں جبکہ کروموسومز اس جینیاتی مواد کو خلیوں میں منظم انداز میں محفوظ رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا کامیابی انسان کے ڈی این اے میں لکھی ہوتی ہے؟ نئی تحقیق نے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیا
ڈی این اے میں ہونے والی بعض تبدیلیاں جسمانی خصوصیات پر اثر انداز ہوسکتی ہیں اور بعض صورتوں میں بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ اسی لیے جدید سائنس میں ڈی این اے کی تحقیق کو بیماریوں کی تشخیص، علاج اور انسانی صحت کو بہتر بنانے کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔










