مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ مؤقف اور حکومت کی حمایت کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ بعض صحافیوں کا خیال ہے کہ اگر پی ٹی آئی کو عمران خان تک رسائی، ان کی رہائی یا دیگر سیاسی معاملات میں ریلیف ملتا ہے تو پارٹی ترمیم کی حمایت پر غور کر سکتی ہے تاہم بعض کے نزدیک اس معاملے میں پیپلز پارٹی کی مخالفت بھی سامنے آ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مخلوط حکومت میں مشاورت کے بغیر 28ویں آئینی ترمیم ممکن نہیں، فی الحال ایسا کچھ نہیں ہورہا، وزیر قانون
پشاور کے سینیئر صحافی ممتاز بنگش کے مطابق 28ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا حکومت سے متفق نہ ہونا بھی حیرت انگیز نہیں ہوگا کیونکہ مجوزہ ترمیم میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اس وقت این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 57.5 فیصد جبکہ وفاق کو 42.5 فیصد حصہ ملتا ہے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی اس معاملے پر ترمیم کی مخالفت کر سکتی ہے۔
ممتاز بنگش نے کہا کہ اگر عمران خان کی رہائی، انہیں قانونی ریلیف ملنے یا پارٹی کو درپیش مسائل کے حل کے بدلے پی ٹی آئی اس ترمیم کی حمایت کرتی ہے تو یہ سودا سیاسی طور پر مہنگا ثابت نہیں ہوگا۔
صحافی شہبندہ فرین کہتی ہیں کہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی سرگرمیاں اور اثرورسوخ بحال کرنے کے لیے ممکنہ طور پر 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت جیلوں میں ہے اور ایسے حالات میں پارٹی کو فعال رکھنے اور اس کی قیادت سنبھالنے کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
مزید پڑھیے: نومبر، دسمبر میں 28 ویں ترمیم پیش ہو جائے گی، نئے صوبے بننے میں اب زیادہ وقت نہیں، گل اصغر خان
رپورٹر وقاص بونیر کے مطابق مشعال یوسفزئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر عمران خان تک رسائی ملتی ہے تو پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنے مؤقف پر نظرثانی کر سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پارٹی اس معاملے پر کیا فیصلہ کرتی ہے۔
نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 28ویں آئینی ترمیم پر مشاورت نہیں ہوئی کیونکہ یہ معاملہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اور سینیٹر علی ظفر نے اس معاملے پر گفتگو اور بحث ہونے کی تصدیق کی ہے البتہ ان کے مطابق اس حوالے سے حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔
سیینیئر صحافی شاہد خان کا کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی بات حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ اگر پی ٹی آئی کی قیادت 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے کوئی غیر معمولی پیشرفت نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ سیاسی جماعتیں حالات اور اپنے سیاسی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہیں۔










