پاک برطانیہ انسداد دہشتگردی مذاکرات، ٹی ٹی پی کی افغانستان میں سرگرمیوں پر تشویش

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور برطانیہ نے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششیں مزید مؤثر بنانے، ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنے اور نئے ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

دونوں ممالک نے افغانستان میں موجود اور وہاں سے سرگرم دہشتگرد گروہوں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کی مسلسل سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی برطانوی قومی سلامتی مشیر سے ملاقات، خطے کی سیکیورٹی اور پاک برطانیہ تعاون پر تبادلہ خیال

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے درمیان انسداد دہشتگردی سے متعلق سالانہ دوطرفہ مذاکرات 4 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوئے، جن میں دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی سلامتی کی صورتحال، دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرات اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

پاکستانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل انسداد دہشت گردی ڈاکٹر فریحہ بگٹی نے کی، جبکہ برطانوی وفد کی سربراہی فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس میں قومی و اقتصادی سلامتی کے ڈائریکٹر تھامس بیری نے کی۔

مذاکرات کے دوران برطانوی وفد نے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں فریقین نے عالمی اور علاقائی سلامتی کی بدلتی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دہشتگرد تنظیموں، بالخصوص سرحد پار سرگرم نیٹ ورکس سے لاحق خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر افغانستان میں موجود اور وہاں سے کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں، بشمول ٹی ٹی پی، کی مسلسل موجودگی پر تشویش ظاہر کی گئی۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں پاکستان مخالف اشتعال انگیزی: پی ٹی آئی سے منسوب اکاؤنٹ پر تشویش، عالمی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ

فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے افغانستان کا مستحکم اور محفوظ ہونا ناگزیر ہے۔

مذاکرات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ اور کثیرالجہتی سطح پر جاری انسداد دہشت گردی تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں ممالک نے دہشتگردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجربات اور بہترین عملی طریقہ کار کے تبادلے پر اتفاق کیا۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال، آن لائن انتہا پسندانہ پروپیگنڈے، غلط اور گمراہ کن معلومات کی مہمات اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دہشت گردی کے پھیلاؤ جیسے نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون کے نئے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں پاکستان کی عسکری قیادت کو دھمکیاں، فوری کارروائی کا مطالبہ

برطانوی اور پاکستانی وفود نے علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کی خدمات کو بھی سراہا اور انسداد دہشتگردی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے اور باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور 2027 میں لندن میں باہمی طور پر طے شدہ تاریخوں پر منعقد ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان ترجمان ذبیع اللہ کا ’داعش‘ کے مکمل خاتمے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد نکلا، 2 ہزار دہشتگردوں کی موجودگی برقرار

ایرانی شہری کو غیر قانونی پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرنے کا الزام، نادرا کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

حکومت کا بڑا معاشی اقدام، ایس ایم ایز کے لیے 300 ارب روپے کی خصوصی فنانسنگ کا اعلان

’این سی سی آئی اے‘ کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں کررہی ہے؟

ایک لاکھ کے ڈیپ فریزر پر 35 لاکھ روپے ہرجانے کا مطالبہ، کراچی میں دلچسپ مقدمہ سامنے آگیا

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟