اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، انڈیکس میں 3,112 پوائنٹس کا اضافہ

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوران تیزی کا رجحان برقرار ہے، امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کو ہونیوالے انتخابی نقصان اور ایران کے ساتھ جنگ میں مزید شدت کے خدشات کم ہونے کی توقعات کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

کاروبار کے دوران جمعرات کو دوپہر 12 بج کر 10 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3,112.18 پوائنٹس یعنی 1.81 فیصد اضافے کے بعد 175,125.66 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟

مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔

انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے اہم حصص میں ماری پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی سدرن گیس کمپنی، حبکو پاور، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک کے شیئرز مثبت زون میں کاروبار کرتے رہے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی، جب بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3,994.62 پوائنٹس یعنی 2.38 فیصد اضافے کے بعد 172,013.48 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں ممکنہ کمی کی توقعات نے سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری کی راہ ہموار کی تھی۔

مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں خریداری کا رجحان، انڈیکس 2,200 پوائنٹس سے زائد بڑھ گیا

دوسری جانب عالمی منڈی میں بھی امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد مثبت رجحان دیکھنے میں آیا۔ ایشیائی مارکیٹوں میں جمعرات کو تیل، چپ ساز کمپنیوں کے حصص اور ڈالر دباؤ کا شکار رہے، جبکہ دیگر بیشتر مارکیٹوں میں تیزی رہی۔

انتخابات میں ڈیموکریٹس کی نمایاں کامیابیوں سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں بھی شدید کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمت تقریباً 9 فیصد گر کر 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی، رواں ہفتے کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت مجموعی طور پر تقریباً 20 فیصد کم ہو چکی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث عالمی بانڈز میں خریداری بڑھی، بانڈز کی پیداوار میں کمی آئی اور ڈالر یورو کے مقابلے میں ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا، جس سے عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو بھی سہارا ملا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp