خیبر پختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں و دیگر غیر ملکیوں اور ان کو ملازمت و گھر فراہم کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی پیر 9 نومبر سے شروع ہوگی جس کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 4 افغان باشندے گرفتار، پاکستانی شناختی کارڈ و پاسپورٹ کے حصول کی کوششوں کا الزام
پولیس حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں کریک ڈاؤن کا آغاز پشاور سے ہوگا جس کے بعد مرحلہ وار صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ پشاور میں تھانوں کی سطح پر ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن کی قیادت متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او کرے گا جبکہ ان ٹیموں میں ضلعی انتظامیہ کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران گرفتار کیے جانے والے غیر قانونی مقیم افراد کو ٹرانزٹ پوائنٹس منتقل کیا جائے گا جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں طورخم بارڈر کے راستے ملک بدر کیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: پنجاب سے 37 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان باشندے ڈی پورٹ؛ انخلا کا عمل تیز
پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ پیر سے کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے جبکہ پشاور کے بعد مرحلہ وار صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی نشاندہی کریں۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے موصول ہونے والی ہدایات کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو گھر یا مکان کرائے پر دینے اور انہیں ملازمت فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: افغان باشندے غیر قانونی راستوں سے یورپ جانے کے لیے پاکستان کا استعمال کیسے کرتے ہیں؟
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کریک ڈاؤن کے لیے پشاور کے مختلف علاقوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور متعلقہ ٹیموں کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔











