مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی، طلال چوہدری

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے گھر کے قریب تجاوزات کے خلاف کارروائی کا موجودہ سیاسی اختلافات سے کوئی تعلق نہیں، اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف مہم گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری ہے اور اس کا کسی شخصیت یا سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف کارروائی پوش سیکٹرز سے شروع کی گئی تھی، جہاں سفارت کاروں، وکلا، ججوں اور کاروباری شخصیات کے گھروں کے باہر قائم سیکیورٹی کیبن، جنریٹرز اور دیگر غیر قانونی تعمیرات بھی ہٹائی گئیں۔ اس حوالے سے ان کے متعدد بیانات اور وضاحتیں بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کا تجاوزات کا دفاع کرنا مناسب نہیں، آپریشن ہر صورت جاری رہے گا، طلال چوہدری

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے گھر کے اطراف کی گلیوں میں بھی پہلے تجاوزات کے خلاف کارروائیاں ہوچکی ہیں، کیبن اور جنریٹرز ہٹائے گئے، جرمانے کیے گئے اور عمارتیں سیل کی گئیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ کارروائی صرف موجودہ سیاسی اختلافات کے بعد شروع کی گئی ہے۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں سرکاری زمین اور املاک پر مختلف لوگوں نے وکالت، صحافت، سیاست اور دیگر شعبوں کی آڑ میں قبضے کیے ہوئے ہیں۔ بعض مقامات پر اولیائے کرام کے نام پر بھی سینکڑوں کنال سرکاری زمین پر تجاوزات قائم کی گئیں۔ ان کے بقول غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کبھی یہ نہیں دیکھا گیا کہ وہاں کس کا گھر یا فلیٹ ہے یا کون رہائش پذیر ہے۔

ایف آئی اے کے نوٹس کا پس منظر کیا ہے؟

وزیر مملکت داخلہ نے مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اور ان کے قریبی ساتھیوں سے متعلق ایف آئی اے کی کارروائی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کا پس منظر کافی پرانا ہے اور اس کا موجودہ سیاسی صورتحال سے تعلق جوڑنا درست نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ متعلقہ معاملہ گزشتہ 2 سے ڈھائی سال سے پارلیمانی کمیٹیوں اور دیگر متعلقہ فورمز پر زیر بحث رہا ہے۔ ان کے مطابق ختم شدہ اسامیوں پر بھی بھرتیاں کی گئیں، منظور شدہ آسامیوں سے زیادہ افراد بھرتی کیے گئے اور بعض اسامیاں فروخت کرنے کے معاملات بھی سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کو دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کے لیے وفاقی حکومت مزید فنڈز دینے کو تیار ہے، طلال چوہدری

طلال چوہدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اداروں پر تنقید کی، جس کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے اداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے بیانات پر ردعمل دیا۔ اس کے بعد جمعیت علمائے اسلام نے محسن نقوی پر تنقید کی، تاہم ان کے بقول سی ڈی اے اور ایف آئی اے کی کارروائیوں کا اس سیاسی کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کی تجاوزات کے خلاف مہم اور ایف آئی اے کے نوٹس کا اپنا الگ اور پرانا پس منظر ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے تجاوزات کے خلاف کارروائی کو متنازع بنا کر غیر قانونی کاموں کا دفاع کیا، جو درست نہیں۔

مولانا کے بیانات پر طلال چوہدری کا ردعمل

طلال چوہدری نے کہا کہ کسی بھی سیاسی رہنما یا سابق وزیر کو اس بات کی چھوٹ نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنے عہدے یا سیاسی حیثیت کی بنیاد پر احتساب سے بالاتر ہوجائے۔ اگر کسی وزیر سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں سوال کیا جاسکتا ہے تو مولانا فضل الرحمان یا ان کے خاندان سے متعلق معاملات پر بھی سوال اٹھائے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو للکارنے، شہدا کو متنازع بنانے اور اپنی سیاسی طاقت کی بنیاد پر ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش درست نہیں۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ جو چاہے کرے اور اس سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ گورنر راج کو مالِ غنیمت سمجھیں گے، طلال چوہدری

وزیر مملکت نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انہیں پہلے کبھی اس قدر غصے، جھنجلاہٹ اور تلخی میں نہیں دیکھا۔ ان کے بقول مولانا کو اپنے بیانات پر نظرثانی کرنی چاہیے اور انہیں اپنے طرز گفتگو پر افسوس کا اظہار کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا ایک سینئر مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان کے بیانات سے زیادہ دکھ ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں جمعیت علمائے اسلام کی قیادت اور ترجمان بھی بعض مواقع پر مولانا کے بیانات کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پی ڈی ایم حکومت میں چھوٹی جماعتوں کے کردار پر سوالات

طلال چوہدری نے سابقہ پی ڈی ایم حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں بعض چھوٹی جماعتوں کی جانب سے ایسے معاملات سامنے آئے جن سے حکومت اور اس میں شامل جماعتوں کی ساکھ متاثر ہوئی۔ ان کے بقول اس کا سیاسی نقصان آج بھی محسوس کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، مسلم لیگ (ن) کے وزرا اور دیگر جماعتوں سے بھی اس حوالے سے سوالات کیے جاسکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے حوالے سے بھی اسلام آباد کے مختلف حلقوں میں شکایات موجود رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی سیاسی رہنما سے اس کی ذمہ داریوں اور مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں سوال کرنا غلط نہیں، خواہ وہ حکومت میں رہا ہو یا اپوزیشن میں۔

عمران خان سے ملاقاتوں میں کوئی بریک تھرو نہیں ہوا، طلال چوہدری

بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی سے متعلق سوال پر طلال چوہدری نے کہا کہ ملاقاتوں میں بنیادی رکاوٹ یہ تھی کہ انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور قانونی طریقہ کار کے مطابق ملاقاتیں کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کے لیے بانی پی ٹی آئی کے وکلا، خاندان، بہنوں اور پارٹی کے بعض رہنماؤں سمیت خود عمران خان کا بھی کردار ہے۔ حکومت کو قانونی اور عدالتی احکامات کے تحت ملاقاتوں پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم ان ملاقاتوں کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں اس لیے جاری رہیں کہ ان کے اہل خانہ کی جانب سے ایسا طرز عمل اختیار نہیں کیا گیا جس سے ملاقاتوں کا معاملہ متاثر ہوتا۔

انہوں نے سلمان صفدر کی عمران خان سے ملاقات کو کسی بڑی پیش رفت یا بریک تھرو قرار دینے سے بھی اتفاق نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 7 ماہ سے صورتحال میں کوئی تبدیلی یا نئی سمت سامنے نہیں آئی اور ملاقاتیں انہی اصولوں کے تحت ہورہی ہیں جن کا حکومت پہلے بھی مؤقف اختیار کرتی رہی ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ اگر ملاقاتوں کے حوالے سے طے شدہ اصولوں پر عمل کیا جائے تو ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، تاہم زور زبردستی، دھمکیوں یا سڑکیں بند کرنے کے ذریعے کسی معاملے کو آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر ملاقاتوں کے حوالے سے طے شدہ اصولوں کی پاسداری کی جاتی ہے تو اس سے متعلقہ فریقوں اور ان کے خاندانوں کے لیے بھی آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp