نومنتخب امریکی سینیٹر ڈاکٹر عبدالسید کی برطانوی صحافی سے مبینہ بدتمیزی، ویڈیو وائرل

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست مشی گن سے نومنتخب ڈیموکریٹ سینیٹر ڈاکٹرعبدالسید کی برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کے صحافی جیمز میتھیوز کے ساتھ تلخ کلامی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد انہیں صحافیوں کے ساتھ نامناسب رویے اور سخت جملوں کے تبادلے پر تنقید کا سامنا ہے۔

یہ واقعہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں کامیابی سے چند گھنٹے قبل پیش آیا، جب اسکائی نیوز کے نامہ نگار جیمز میتھیوز نے عبدالسید سے سوالات کرنے کی کوشش کی۔

اس دوران نومنتخب سینیٹر نے صحافی سے پوچھا کہ کیا وہ ریاست مشی گن میں ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر عبدالسید کون ہیں؟

صحافی کے نفی میں جواب پر عبدالسید نے کہا کہ وہ ان سے گفتگو کرنے میں کیوں دلچسپی لیں گے۔

جب میتھیوز نے بتایا کہ وہ صحافی ہیں تو عبدالسید نے جواب دیا کہ وہ برطانیہ کے صحافی ہیں اور انہیں برطانیہ میں ووٹوں کی ضرورت نہیں۔

اس دوران انہوں نے 2 مرتبہ صحافی کے کندھوں پر ہاتھ بھی رکھا۔

صحافی نے موقف اختیار کیا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات پوری دنیا کے لیے اہمیت رکھتے ہیں اور عبدالسید سینیٹر منتخب ہونے کی دوڑ میں شامل ہیں، تاہم عبدالسید بار بار یہ سوال کرتے رہے کہ وہ کس ملک کے سینیٹر بننے جا رہے ہیں اور صحافی کے ناظرین کس ملک میں مقیم ہیں۔

اسکائی نیوز کے نامہ نگار نے وضاحت کی کہ وہ امریکا میں مقیم ہیں اور ان کا ادارہ بین الاقوامی ناظرین کے لیے خبریں نشر کرتا ہے، تاہم عبدالسید نے دعویٰ کیا کہ اسکائی نیوز امریکا میں نہیں دیکھا جاتا اور یہاں اس کے ناظرین کی تعداد انتہائی کم ہے۔

گفتگو کے دوران عبدالسید نے صحافی سے کہا کہ وہ برطانوی ناظرین کے لیے تمام سوالات کے جواب دے چکے ہیں، اس لیے ان کا پیچھا کرنا بند کیا جائے۔

مزید پڑھیں: حکیم جیفریز کے امریکی ایوانِ نمائندگان کے پہلے سیاہ فام اسپیکر بننے کی راہ ہموار

بعد ازاں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صحافی ان کے راستے میں آتے رہے تو وہ خوش نہیں ہوں گے۔

واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد متعدد صحافتی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے عبدالسید کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

برطانوی صحافی پیئرز مورگن نے اس طرزِ عمل کو قابلِ افسوس اور تحقیر آمیز قرار دیا، جبکہ دیگر مبصرین نے صحافی کے کندھوں پر ہاتھ رکھنے کو دھونس جمانے کے مترادف قرار دیا۔

صحافیوں کے ساتھ تلخ کلامی کا سابقہ ریکارڈ

امریکی میڈیا کے مطابق عبدالسید کا صحافیوں کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ کوئی نیا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی وہ مختلف انٹرویوز اور پریس گفتگو کے دوران صحافیوں کے سوالات پر برہمی کا اظہار کر چکے ہیں۔

اکتوبر میں این بی سی نیوز کے اینکر ٹام لاماس کے ساتھ گفتگو کے دوران عبدالسید اس وقت برہم ہوگئے تھے جب ان سے ان کے خاندان کے مبینہ طور پر اخوان المسلمون سے روابط کے بارے میں سوال کیا گیا۔

عبدالسید نے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ 1984ء میں مشی گن میں پیدا ہوئے، وہیں تعلیم حاصل کی اور مقامی محکمہ صحت میں اہم ذمہ داریاں ادا کیں، لیکن ان سے 1970 کے مصر کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: اوہائیو میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ وویک راماسوامی کو شکست، ڈیموکریٹ ایمی ایکٹن کامیاب

انہوں نے صحافی پر سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ کی بنیاد پر غیر مصدقہ معلومات پیش کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

اسی طرح ستمبر میں صحافی چک ٹوڈ کے ساتھ انٹرویو کے دوران انہوں نے ٹی وی میزبان بل مہر کے بارے میں بھی سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کے پروگرام میں جا کر انہیں ان کے اپنے شو میں جواب دینا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اوہائیو میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ وویک راماسوامی کو شکست، ڈیموکریٹ ایمی ایکٹن کامیاب

عبدالسید کی ایک اور صحافی آڈری فاہلبرگ کے ساتھ بھی تلخ کلامی ہوئی تھی، جب ان سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی وفات پر بعض امریکی شہریوں کے ردعمل کے حوالے سے ان کی مبینہ نجی گفتگو کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔

انہوں نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے محض توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

ٹرمپ کے میڈیا سے تعلقات سے موازنہ

ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے میڈیا فیلو ٹم ینگ نے عبدالسید کے صحافیوں کے ساتھ رویے کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے میڈیا سے تعلقات سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صورت حال میں بنیادی فرق ہے۔

ان کے مطابق عبدالسید میڈیا سے اس وقت ناراض ہوتے ہیں جب صحافی ان سے ان کے بارے میں یا اخوان المسلمون جیسی تنظیموں سے مبینہ تعلقات کے بارے میں سوالات کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان سوالات کے جواب نہیں دینا چاہتے۔

مزید پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات ختم، 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹس میں نئی صف بندی شروع

ٹم ینگ کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی میڈیا کی جانب سے بار بار ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں وہ اپنے خلاف بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش سمجھتے ہیں، تاہم دونوں شخصیات کے ردعمل کو ایک جیسا قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری جانب کمیونیکیشن ٹرینر جوسلین مارٹینز کا خیال ہے کہ عبدالسید کو اپنا اندازِ گفتگو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں، ان کے مطابق مشی گن میں ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کے خلاف بڑی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں ان کا جارحانہ اور دوٹوک انداز مؤثر ثابت ہوا۔

واضح رہے کہ عبدالسید نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں مشی گن کی اہم سینیٹ نشست پر ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی، اس نشست پر کامیابی کو ری پبلکنز کے لیے اہم دھچکا قرار دیا جا رہا تھا، کیونکہ وہ اس انتخابی مرحلے میں اسے اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور تاجکستان کی مشترکہ انسدادِ دہشتگردی فوجی مشقیں ’دوستـی تھری‘ مکمل

ہزارہ موٹروے پر بس اور ڈمپر میں تصادم، 8 افراد جاں بحق، 30 زخمی

بچوں کو سوشل میڈیا کی لت سے بچانے کا قانون، گوگل، میٹا اور ٹک ٹاک عدالت پہنچ گئے

بیٹی کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی خلیل الرحمان قمر پر تنقید کیوں ہونے لگی؟

بجلی صارفین سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 23 ارب 33 کروڑ روپے وصول کرنے کی تیاری

ویڈیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

2 اضلاع کے لاکھوں افراد کا رابطہ شدید متاثر، ہنجلی دوہٹہ کا ٹوٹا پل تاحال نامکمل، مایوس عوام کی امیدیں نئے صوبوں سے بندھ گئیں

اسکول بن گیا، سہولتیں نہ ملیں، پنوں عاقل کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟