گوگل، میٹا اور ٹک ٹاک نے امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک نئے قانون پر عمل درآمد رکوانے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ قانون کا مقصد بچوں کو سوشل میڈیا کی ایسی خصوصیات سے محفوظ رکھنا ہے جو انہیں اس کا عادی بنا سکتی ہیں۔
’اسمبلی بل 1709‘ کے نام سے معروف اس قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کم عمر بچوں کے لیے ایسی خصوصیات پیش کرنے سے روکا گیا ہے جنہیں نفسیاتی طور پر استحصالی قرار دیا گیا ہے۔ ان میں صارفین کی ذاتی پسند کے مطابق مواد تجویز کرنا اور ویڈیوز کا خودکار طور پر چلتے رہنا شامل ہے۔
Google, Meta, TikTok Sue Calif. AG to Block Landmark State Children's Online Safety Bill www.law.com/2026/11/05/google-meta-tiktok-sue-calif-ag-to-block-landmark-state-childrens-online-safety-bill-/ pic.twitter.com/01wWthiCBY
— Law.com (@lawdotcom) November 6, 2026
گوگل، میٹا اور ٹک ٹاک نے اپنے مقدمات میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ قانون انہیں بچوں کے لیے مواد پیش کرنے کے ریاست کے پسندیدہ طریقے اپنانے پر مجبور کرتا ہے۔ کمپنیوں کے مطابق قانون امریکی آئین میں دی گئی آزادیٔ اظہار کی ضمانتوں اور وفاقی قانون کی دفعہ 230 کی خلاف ورزی کرتا ہے، جو آن لائن پلیٹ فارمز کو صارفین کے فراہم کردہ مواد کی قانونی ذمہ داری سے تحفظ دیتی ہے۔
امریکی ریاستوں میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے مختلف قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں، جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں بھی اس نوعیت کی پابندیاں زیرِ عمل ہیں۔ بعض ممالک نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گوگل کا اسکولوں میں اے آئی اور سرچ سروسز بند کرنے کا فیصلہ
رپورٹ کے مطابق میٹا نے اس سے قبل تقریباً تمام امریکی ریاستوں کے ساتھ صارفین کی رازداری اور تحفظِ صارف کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات طے کرنے کے بعد 18 ارب ڈالر ادا کرنے اور نوعمر افراد کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کے استعمال کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
گوگل نے سان ہوزے کی وفاقی عدالت، میٹا نے سان فرانسسکو جبکہ ٹک ٹاک نے لاس اینجلس کی عدالت میں مقدمات دائر کیے ہیں۔











