پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ کئی روز سے جاری تیزی کے بعد جمعہ کو کاروبار کے آغاز پر مندی کا رجحان غالب آگیا اور انڈیکس ابتدائی چند منٹوں میں 2 ہزار 200 پوائنٹس سے زائد گرگیا۔
صبح 9 بج کر 40 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار 233.79 پوائنٹس یعنی 1.27 فیصد کمی کے بعد 173,146.07 پوائنٹس کی سطح پر آگیا، جبکہ گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 175,379.87 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
ماہرین کے مطابق حالیہ تیزی کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے لیے شیئرزفروخت کیے جانے کا امکان ہے، طویل تعطیلات سے قبل سرمایہ کار اپنی پوزیشنز محدود رکھنے اور حاصل شدہ منافع محفوظ کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
دوسری جانب ملکی معاشی محاذ پر اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 30 اکتوبر 2026ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 39 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ذخائر 21.56 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
Before the bell, Fri 6 Nov:
• China and Kuwait assure Pakistan of loan rollovers
• Petrol and diesel prices fall
• SBP reserves rise, lifting total foreign exchange reservesFear & Greed meter at 56 (Greed), foreigners net sold $4.35m.#PSX #KSE100 pic.twitter.com/YtvkwuFYVP
— Investify Pakistan (@investifypk) November 6, 2026
تاہم عالمی بینک کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرضہ 2025ء میں 4 فیصد اضافے کے بعد 135.1 ارب ڈالر ہوگیا، جس میں کثیرالجہتی اور دوطرفہ قرض دہندگان کا بڑا حصہ شامل ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی تھی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد عالمی سرمایہ کاروں کے بہتر اعتماد کے باعث وسیع پیمانے پر خریداری ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اس دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 3,366.38 پوائنٹس یعنی 1.96 فیصد اضافے کے بعد 175,379.87 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
ادھر عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی جمعہ کو شدید مندی دیکھی گئی۔ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 8 فیصد سے زائد گرنے کے بعد عارضی طور پر کاروبار روکنے پر مجبور ہوا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 6 فیصد اور تائیوان کی مارکیٹ 8 فیصد سے زائد نیچے آگئی۔

امریکی مارکیٹ میں بھی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرزکی فروخت کے باعث نیسڈیک انڈیکس 5.5 فیصد گرگیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں شامل کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو سے تقریباً 3 کھرب ڈالر کم ہوگئے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری، متوقع منافع سے متعلق خدشات اور ممکنہ حکومتی ضابطوں کی سختی کو اس گراوٹ کی اہم وجوہات قرار دیا گیا۔











