امریکا میں خاندانی رشتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریاں ایک اہم سماجی مسئلہ بنتی جا رہی ہیں، ایک حالیہ سروے کے مطابق ملک میں تقریباً ہر 10 میں سے 4 بالغ افراد ایسے ہیں جو اپنے خاندان کے کم از کم ایک قریبی فرد سے کسی نہ کسی درجے میں لاتعلقی یا قطع تعلقی کا شکار ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس صورت حال کے پیچھے نظریاتی اختلافات، رابطوں میں کمی، باہمی بداعتمادی اور طویل عرصے سے حل نہ ہونے والے تنازعات جیسے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں یوگوو کی جانب سے کیے گئے سروے میں 4 ہزار 395 امریکی بالغ افراد کی آرا حاصل کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’چند قدم اور۔۔۔‘: روزانہ معمول سے تھوڑا زیادہ چلنے سے عمر رسیدہ افراد دماغ صحت مند رکھ سکتے ہیں، کتنا چلا جائے؟
سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ تقریباً 40 فیصد افراد اپنے کسی قریبی خاندانی رشتے دار سے دوری یا قطع تعلقی کا تجربہ کر چکے ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق 24 فیصد افراد اپنے کسی بہن یا بھائی سے، 16 فیصد اپنے والد یا والدہ سے، جب کہ 10 فیصد اپنے کسی بچے سے لاتعلقی کا شکار رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خاندانی تعلقات میں یہ فاصلے ہمیشہ کسی ایک بڑے تنازعے کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوتے، بلکہ بعض اوقات چھوٹی چھوٹی تلخیاں اور مسلسل رابطے کی کمی بھی رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
Amid a growing trend of parent-child estrangement, experts say recognizing the early warning signs may help families address problems before they escalate into a no-contact situation. https://t.co/eEahqbGXbp
— FOX 5 DC (@fox5dc) October 30, 2026
ماہرین کے مطابق خاندانی دوری کی ابتدائی علامات میں زندگی کے اہم واقعات اور ذاتی معاملات ایک دوسرے سے شیئر نہ کرنا، خاندانی تقریبات میں شرکت سے گریز، فون کالز اور پیغامات کا جواب نہ دینا اور رابطوں کو محدود یا رسمی رکھنا شامل ہیں۔ بعض افراد خاندان کے ساتھ تصاویر بنوانے یا مشترکہ سرگرمیوں میں حصہ لینے سے بھی کترانے لگتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گفتگو کے انداز میں سختی، ایک دوسرے کے لیے احترام میں کمی اور دادا دادی یا نانا نانی کو بچوں سے ملنے سے روکنا بھی خاندانی کشیدگی کی علامات ہو سکتی ہیں۔
بعض اوقات نظریاتی یا سیاسی اختلافات بھی رشتوں میں فاصلے پیدا کرتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر موجود بعض حلقے بھی لوگوں کو اختلافات کی صورت میں تعلق ختم کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’جھک کے ڈھونڈتا ہوں جوانی کدھر گئی؟‘، کیا سائنس بڑھاپے کو پلٹ سکتی ہے؟
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ہر اختلاف یا ناراضی کو قطع تعلقی نہیں سمجھنا چاہیے، تاہم جب رابطے مسلسل کم ہوتے جائیں اور بات چیت کا راستہ بند ہو جائے تو تعلقات مزید خراب ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
بعض خاندانوں میں یہ دوری اچانک بھی پیدا ہو سکتی ہے اور متاثرہ فرد کو اس کی واضح وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
ماہرین کے مطابق خاندانی تعلقات بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ فریقین ایک دوسرے کی بات توجہ سے سنیں، گفتگو کے دوران مداخلت سے گریز کریں اور دوسرے شخص کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
مزید پڑھیں: مخصوص غذائیں گھٹنوں کے جوڑوں کی بیماری کا خطرہ کم کرسکتی ہیں، تحقیق
اس مقصد کے لیے بات سننے کے بعد اس کا خلاصہ دہرانا اور یہ پوچھنا کہ آیا وہ مزید کچھ کہنا چاہتا ہے، مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلقات کی بحالی کے لیے اپنی غلطیوں اور رویوں کا جائزہ لینا بھی اہم ہے۔
اختلافات کے باوجود احترام، تحمل اور مؤثر رابطے کو برقرار رکھنے کی کوشش خاندانی رشتوں میں پیدا ہونے والی دوریاں کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔











