جسمانی سرگرمی کو دل اور پٹھوں کی صحت کے لیے تو فائدہ مند سمجھا جاتا ہے لیکن ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ پیدل چلنے کے معمول میں تھوڑا سا اضافہ بھی دماغی صحت کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’جھک کے ڈھونڈتا ہوں جوانی کدھر گئی؟‘، کیا سائنس بڑھاپے کو پلٹ سکتی ہے؟
تحقیق کے مطابق روزانہ قدموں کی تعداد میں ہر ایک ہزار قدم کا اضافہ خصوصاً توجہ مرکوز کرنے اور اپنے رویوں پر قابو رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے بہتر ذہنی کارکردگی سے منسلک پایا گیا۔
امریکا کے شہر ہیوسٹن میں واقع بیلر کالج آف میڈیسن کے محققین نے اس مطالعے میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی سرگرمی اور دماغی صحت کے درمیان کیا تعلق ہے۔ تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے ’سائنٹفک رپورٹس‘ میں شائع ہوئے ہیں۔
محققین نے سنہ 2009 سے سنہ 2023 تک جمع کیے گئے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جن میں 18 سے 93 سال کی عمر کے 3 ہزار 93 افراد کی فٹ بِٹ ڈیوائسز سے حاصل ہونے والی روزانہ قدموں کی تعداد کا ریکارڈ بھی شامل تھا۔ یہ افراد امریکا کے ’آل آف اَس‘ تحقیقی پروگرام کا حصہ تھے۔
مطالعے میں شامل 57 فیصد افراد کی عمریں 60 سال یا اس سے زیادہ تھیں، جبکہ 68 فیصد خواتین تھیں۔ شرکا کی اکثریت سفید فام اور امریکا میں پیدا ہونے والے افراد پر مشتمل تھی۔
روزانہ ایک ہزار قدم زیادہ چلنے کا کیا فائدہ سامنے آیا؟
محققین نے شرکا کے روزانہ قدموں کی تعداد کے ساتھ ان کے بلڈ پریشر اور ذہنی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیے سنہ 2023 میں تحقیق کے اختتام پر مختلف ذہنی آزمائشیں کی گئیں جن کے ذریعے توجہ، خود پر قابو رکھنے، فوری ردعمل اور چہروں کے تاثرات سے جذبات پہچاننے کی صلاحیت جانچی گئی۔
مزید پڑھیے: عمر رسیدہ افراد پرانی یادیں مختلف انداز میں کیوں بیان کرتے ہیں؟ جانیے حیران کن وجہ
نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد روزانہ اپنی چہل قدمی میں بتدریج اضافہ کرتے ہوئے تقریباً ایک ہزار قدم زیادہ چلتے تھے ان کی ذہنی کارکردگی نسبتاً بہتر تھی۔
خاص طور پر ایسے افراد نے توجہ مرکوز کرنے اور اپنے رویوں پر قابو رکھنے سے متعلق آزمائشوں میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ روزمرہ جسمانی سرگرمی میں معمولی اضافہ بھی دماغ کے بعض اہم افعال کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
تحقیق میں بلڈ پریشر اور ذہنی کارکردگی کے درمیان بھی تعلق سامنے آیا۔ زیادہ سسٹولک بلڈ پریشر، یعنی بلڈ پریشر کی اوپری ریڈنگ، رکھنے والے افراد نے اپنے فوری ردعمل اور خود پر قابو رکھنے کی صلاحیت جانچنے والے امتحان میں نسبتاً کم نمبر حاصل کیے۔
محققین کے مطابق سسٹولک بلڈ پریشر میں ہر ایک ملی میٹر مرکری (ایم ایم ایچ جی) اضافے کے ساتھ اس آزمائش میں کارکردگی خراب ہونے کا تعلق دیکھا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ جسمانی سرگرمی رکھنے والے افراد کا سسٹولک بلڈ پریشر نسبتاً کم تھا۔ جسمانی سرگرمی اور بلڈ پریشر دونوں الگ الگ طور پر بہتر ذہنی کارکردگی سے منسلک پائے گئے۔
مزید پڑھیں: کیا بڑھتی عمر کی رفتار سست کی جا سکتی ہے؟ نئی تحقیق سے اہم اشارے
تاہم محققین نے واضح کیا کہ ان اثرات کی شدت معمولی تھی اور تحقیق سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکا کہ زیادہ پیدل چلنے یا بلڈ پریشر قابو میں رکھنے سے براہِ راست ذہنی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ اس مطالعے سے دونوں کے درمیان تعلق تو سامنے آیا ہے، لیکن یہ طے نہیں ہوسکا کہ اس تعلق کی اصل وجہ کیا ہے۔
ورزش دماغ کو عمر بڑھنے کے اثرات سے کیسے بچا سکتی ہے؟
اس تحقیق میں شامل نہ ہونے والی نیورو سائیکولوجسٹ ڈاکٹر شینل الہلو کے مطابق جسمانی سرگرمی مختلف طریقوں سے دماغی صحت کو سہارا دے سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش دل اور خون کی نالیوں کی صحت برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے اور ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بیماریاں دماغ کو خون فراہم کرنے والی نالیوں کو متاثر کرسکتی ہیں اس لیے ان کا بہتر انتظام دماغی صحت کے لیے اہم ہے۔
ڈاکٹر الہلو کے مطابق ورزش دماغ کی خود کو تبدیل کرنے، نئے روابط بنانے اور موجودہ روابط کو مضبوط کرنے کی صلاحیت یعنی نیوروپلاسٹیسٹی، کو بھی سہارا دے سکتی ہے۔
تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ جسمانی سرگرمی کے دوران دماغ سے حاصل ہونے والا ایک خاص پروٹین ’برین ڈیریوڈ نیوروٹروفک فیکٹر‘ (بی ڈی این ایف) بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہ پروٹین دماغی خلیات کی نشوونما اور ان کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
اس عمل سے دماغ کے ان حصوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو سیکھنے اور یادداشت سے تعلق رکھتے ہیں جن میں ہپوکیمپس بھی شامل ہے۔ تاہم ماہرین ابھی تک ان تمام حیاتیاتی طریقہ کار کو مکمل طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق جسمانی سرگرمی مزاج بہتر بنانے اور نیند کے معیار میں بہتری لانے میں بھی مدد دیتی ہے، جبکہ اچھی نیند اور بہتر ذہنی کیفیت روزمرہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے لیے اہم ہیں۔
دماغی صحت کے لیے ہفتے میں کتنی ورزش ضروری ہے؟
ڈاکٹر الہلو کے مطابق جسمانی سرگرمی کو معمول کا حصہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شخص ایسی ورزش یا سرگرمی کا انتخاب کرے جس میں اسے دلچسپی ہو اور جسے وہ طویل عرصے تک جاری رکھ سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ بالغ افراد کے لیے عمومی طور پر ہفتے میں کم از کم 150 منٹ درمیانی شدت کی جسمانی سرگرمی کی سفارش کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہفتے میں کم از کم 2 مرتبہ پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزشیں بھی مفید ہیں جبکہ عمر رسیدہ افراد کے لیے توازن بہتر بنانے والی مشقیں بھی اہم ہیں۔
اس مقصد کے لیے تیز قدموں سے پیدل چلنا، تیراکی، سائیکل چلانا اور رقص جیسی سرگرمیاں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ تاہم ورزش کا انتخاب ہر فرد کی عمر، جسمانی صلاحیت اور صحت کی صورت حال کے مطابق ہونا چاہیے۔
ماہرہ کے مطابق یہ عمومی صحت کی سفارشات ہیں، انہیں ذہنی تنزلی سے بچاؤ کا کوئی یقینی نسخہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ جو لوگ ابھی زیادہ جسمانی سرگرمی کے عادی نہیں، وہ مختصر دورانیے سے آغاز کرکے بتدریج اس میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول کچھ نہ کرنے کے مقابلے میں تھوڑی سی جسمانی سرگرمی بھی بہتر ہے۔
مزید پڑھیں: عمر رسیدہ افراد کی دماغی صحت اور کھانے کے اوقات میں ممکنہ تعلق سامنے آگیا
انہوں نے مشورہ دیا کہ لوگوں کو ورزش کو اپنی روزمرہ زندگی کا خوشگوار حصہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر کسی دوست کے ساتھ چہل قدمی کرنا یا اپنی پسند کی کسی ورزش کی جماعت میں شامل ہونا اس عادت کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
جو لوگ زیادہ چل نہیں سکتے وہ کیا کریں؟
ماہرین کے مطابق جسمانی نقل و حرکت میں محدودیت رکھنے والے افراد کے لیے بھی سرگرم رہنے کے مختلف طریقے موجود ہیں۔ ایسے افراد کے لیے روزانہ قدموں کی تعداد بڑھانا ممکن نہ ہو تو انہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔
ڈاکٹر الہلو کے مطابق ایسے افراد اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق کرسی پر بیٹھ کر ورزش، ہلکے وزن اٹھانے، مزاحمتی پٹیوں کے ذریعے مشقیں کرنے، وہیل چیئر پر کی جانے والی جسمانی سرگرمیوں یا پانی میں ورزش کا انتخاب کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اصل مقصد ایسی جسمانی سرگرمی تلاش کرنا ہے جو محفوظ ہو، آسانی سے کی جاسکے اور فرد کی صحت اور صلاحیت کے مطابق ہو۔ فزیوتھراپسٹ درد، توازن کے مسائل یا دوسری جسمانی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ورزش کا منصوبہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت
انہوں نے زور دیا کہ جو افراد صحت یا جسمانی محدودیت کے باعث ورزش کے عمومی اہداف حاصل نہیں کرسکتے انہیں اپنی استطاعت کے مطابق متحرک رہنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
دماغی صحت کے لیے صرف ورزش کافی نہیں
ماہرین کے مطابق دماغ کو صحت مند رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمی کے ساتھ کئی دوسرے عوامل بھی اہم ہیں۔ مناسب نیند، متوازن غذا، سماجی روابط برقرار رکھنا اور ذہنی طور پر متحرک رہنا بھی دماغی صحت کو سہارا دے سکتا ہے۔
اس کے علاوہ سماعت اور بینائی کے مسائل کا علاج، بلڈ پریشر اور دیگر ایسے طبی عوامل پر قابو رکھنا بھی ضروری ہے جو دماغی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پرندے محض کھڑکی سے بھی دیکھنا یادداشت کے لیے مفید، جانیے اس مخلوق سے انسیت کے دیگر فوائد
ڈاکٹر الہلو کے مطابق دماغی صحت بہتر رکھنے کا کوئی ایک طریقہ سب کے لیے یکساں طور پر مؤثر نہیں ہوتا، اس لیے ہر فرد کو اپنی صحت، جسمانی صلاحیت اور حالات کے مطابق ایسا معمول اپنانا چاہیے جس پر مستقل عمل ممکن ہو۔










