امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کو ملک کے باقی حصے کو بھی تباہ کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے اور جلد فیصلہ سامنے آجائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا فیصلہ کرے گا کہ آیا ایران کے خلاف کارروائی مزید آگے بڑھائی جائے تاکہ اس کا جوہری پروگرام مستقل طور پر ختم کیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ممکنہ حد تک ایران کے باقی حصے کو تباہ نہیں کرنا چاہوں گا، لیکن شاید مجھے ایسا کرنا پڑے، آپ کو جلد ہی معلوم ہوجائے گا۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے بعد ایران کو دوبارہ تعمیر ہونے میں تقریباً 25 سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی قدم امریکا کی منظوری کے بغیر نہیں اٹھا سکتا۔
Trump on Iran:
I would rather not destroy the rest of the country if possible, but maybe I’ll have to. pic.twitter.com/1iU9BeJ3ne— Muhammad Noman (@MianJournalist) November 6, 2026
امریکی نشریاتی ادارے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ اپنے اعلیٰ قومی سلامتی مشیروں کے ساتھ ایران کی صورت حال پر مشاورت کی ہے۔ امریکی صدر کے سامنے فی الحال 3 راستے ہیں، ایران پر نئے فضائی حملے، تہران کے خلاف معاشی دباؤ جاری رکھنا یا ایسی سفارتی مفاہمت جس میں امریکا اور ایران دونوں کو بعض معاملات پر رعایت دینا پڑے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کر رہی ہے، تاہم اسے واشنگٹن سے حملوں کا کوئی نیا حکم نہیں ملا۔ اس دوران سفارتی رابطے بھی جاری ہیں اور ثالثوں کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام پر نئی تجاویز زیرِ غور ہیں۔
ایکسیوس کے مطابق زیرِ بحث مجوزہ سمجھوتے میں پہلے مرحلے پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران کے منجمد اثاثوں میں سے کچھ رقم جاری کرنے کی تجویز شامل ہے، جس کے جواب میں ایران بمباری کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو باضابطہ دعوت دے گا۔ دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز کھولنے اور اس کے بعد ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا خارگ جزیرہ تباہ کرنے کا دعویٰ، لارک پر حملے کے بعد ایران امریکا کشیدگی بڑھ گئی
الجزیرہ کے مطابق ایران نے ثالثوں کے ذریعے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق نئی تجویز امریکا کو بھیجی ہے، تاہم تہران کی جانب سے پیش کردہ 7 شرائط پر اتفاق ہونا بھی مذاکرات کی پیشرفت کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے رواں سال فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ بعد ازاں جنگ بندی اور مفاہمت کی کوششوں کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی اختلافات، خصوصاً جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور پابندیوں کے خاتمے کے معاملات حل نہیں ہوسکے۔ ٹرمپ کے تازہ بیان سے خطے میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔











