وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ملک میں کیش لیس معیشت کے فروغ کو حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو 100 فیصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام قائم کرنے کے لیے واضح لائحہ عمل اور مقررہ مدت کے ساتھ اہداف پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں میں صارفین کو درپیش مسائل فوری حل کرنے اور ملک بھر میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے ساتھ عوام کی ٹیکنالوجی تک آسان رسائی یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں کیش لیس معیشت کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو وسعت دینے اور اس سلسلے میں جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کا کیش لیس معیشت کے فروغ پر زور، موبائل بینکنگ صارفین 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئے
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کیش لیس معیشت کا فروغ حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزارت خزانہ اور تمام متعلقہ ریاستی اداروں کی کامیاب کاوشوں کو قابل ستائش قرار دیا۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ملک میں 100 فیصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے قیام کے لیے واضح لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور مقررہ مدت کے ساتھ اہداف پیش کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں صارفین کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی فراہمی اور عوام کی ٹیکنالوجی تک آسان رسائی یقینی بنانا ضروری ہے۔
وزیراعظم نے راست کیو آر کوڈ کے ذریعے صارفین اور تاجروں کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کی اسکیم حکومتی سرپرستی میں جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کا نظام حکومت کے کیش لیس معیشت کے وژن کے حصول میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے بجلی اور گیس کے صارفین کو یوٹیلیٹی بلوں پر درج کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیاں کرنے کی ترغیب دینے کے لیے مؤثر میڈیا مہم چلانے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں کو کیش لیس معیشت کے منصوبے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے جاری اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ تمام وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں میں ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن پر تیزی سے کام جاری ہے اور بیشتر اداروں میں دسمبر 2026 تک تمام ادائیگیاں مکمل طور پر ڈیجیٹائز ہو جائیں گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی 100 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جبکہ انٹرنیٹ کی عدم موجودگی میں بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے جدید نظام متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔
حکام نے بتایا کہ پورے ملک میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کے قیام پر بھی تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ملک بھر کے تمام پاسپورٹ دفاتر میں کیش لیس ادائیگی کا نظام نافذ، شہریوں کو قطاروں سے نجات مل گئی
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ 15 نومبر 2026 سے آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کی چیک کے ذریعے ادائیگیاں ختم کی جا رہی ہیں، جبکہ 16 نومبر سے ملک بھر میں ان اکاؤنٹس کی تمام ادائیگیاں راست ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران (DDOs) کو تربیت بھی فراہم کی جا چکی ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا محمد اورنگزیب، شزا فاطمہ خواجہ، عطااللہ تارڑ، جنید انور چوہدری، علی پرویز ملک، سردار اویس لغاری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، تمام صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔











