نئی آٹو پالیسی منظور، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی اور برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف

ہفتہ 7 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان کے مشیر ہارون اختر نے کہا ہے کہ طویل مشاورت کے بعد نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی آئے گی، جبکہ آٹو سیکٹر کی برآمدات کو 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم ہارون اختر نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور آٹو انڈسٹری لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا پاکستان 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف پورا کر سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سال سے آٹو سیکٹر کے لیے پالیسیاں بنائی جا رہی تھیں، لیکن اس کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہیں ہو سکا۔ اس مرتبہ برآمدات پر مبنی پالیسی کی تیاری کے لیے بہت محنت کی گئی ہے اور نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں کی برآمدات کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔

ہارون اختر کے مطابق نئی پالیسی کے تحت آٹو سیکٹر کی برآمدات کو موجودہ 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا، جبکہ برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والے مینوفیکچررز پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔

’گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی آئے گی‘

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی کے نفاذ سے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی آئے گی، جس کا فائدہ بالخصوص متوسط اور اعلیٰ آمدنی والے طبقے کو ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت کوئی بھی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی خریداروں سے گاڑی کی قیمت کا 20 فیصد سے زیادہ ایڈوانس وصول نہیں کر سکے گی۔

ہارون اختر کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر بہتر بنانے کے لیے 45 اضافی اسٹینڈرڈز شامل کیے گئے ہیں، جن کی بدولت پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کا شمار بہترین گاڑیوں میں ہوگا۔

الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد ایک کروڑ روپے مقرر

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، کیونکہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے بعد الیکٹرک وہیکلز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے تاکہ ان گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

ہارون اختر کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز پر درآمدی ڈیوٹیز میں بھی کمی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی کے ذریعے گاڑیوں کے معیار میں بہتری، قیمتوں میں کمی، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے اہداف حاصل کیے جائیں گے۔

نئی آٹو پالیسی میں 800 اور 1000 سی سی گاڑیوں کے لیے کیا فیصلہ ہوا؟ عطااللہ تارڑ نے بتا دیا

اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت نے ایک جامع آٹو پالیسی تیار کی ہے، جس میں پیٹرول پر چلنے والی 800 اور 1000 سی سی گاڑیوں کو نہیں چھیڑا گیا، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے بڑی رعایتیں دی گئی ہیں۔ حکومت کا مقصد عام آدمی کو سہولت فراہم کرنا اور پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل میں کمی لانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی دہائیوں سے آٹو انڈسٹری کو تحفظ فراہم کرنے والی پالیسیاں نافذ رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود صنعت نے ماضی میں صارفین کو مطلوبہ سہولیات فراہم نہیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے ذریعے عام شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت ملے اور گاڑیوں کی صنعت میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جن سے صارفین کو فائدہ پہنچے۔

متوسط اور نچلے متوسط طبقے کو سہولت دینا وزیراعظم کی ترجیح

عطااللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی واضح ہدایت ہے کہ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے سہولیات پیدا کی جائیں۔ نئی آٹو پالیسی میں بھی اسی مقصد کو سامنے رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی چھوٹ دی ہے کیونکہ موجودہ حالات میں ان گاڑیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہماری بہنیں بھی الیکٹرک بائیکس پر سفر کرتی ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ عام شہریوں کے لیے جدید اور متبادل سفری سہولیات کو فروغ دیا جائے۔

الیکٹرک گاڑیوں سے درآمدی بل اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی

عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کا تیل کا درآمدی بل روز بروز بڑھ رہا ہے اور حکومت اس بڑھتے ہوئے مالی بوجھ سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے۔

ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافے سے پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ فضا میں کاربن کے اخراج میں بھی کمی آئے گی، جس سے ماحول پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید پڑھیں: گاڑیاں سستی ہوں گی یا مہنگی؟ نئی آٹو پالیسی آخری مراحل میں داخل

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ وقت کی ضرورت ہے اور حکومت کی نئی آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد عام آدمی کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ درآمدی بل میں کمی لانا بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’این سی سی آئی اے‘ کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں کررہی ہے؟

ایک لاکھ کے ڈیپ فریزر پر 35 لاکھ روپے ہرجانے کا مطالبہ، کراچی میں دلچسپ مقدمہ سامنے آگیا

حلقہ این اے 77 میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام، الیکشن کمیشن نے عطا اللہ تارڑ کو طلب کر لیا

نئی آٹو پالیسی میں 800 اور 1000 سی سی گاڑیوں کے لیے کیا فیصلہ ہوا؟ عطااللہ تارڑ نے بتا دیا

جنوبی کوریا کو شکست، پاکستان ایشین ٹیم اسکواش چیمپیئن بن گیا، 10 سال بعد گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟