کراچی کے مختلف پوش اور تجارتی علاقوں میں قائم غیر قانونی سرگرمیوں اور سائبر فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث کال سینٹرز کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اور سائبر کرائم ونگ نے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں شہر کے مختلف علاقوں، خصوصاً شاہراہِ فیصل، گلشنِ اقبال، ڈی ایچ اے اور کلفٹن میں متعدد بڑے چھاپے مارے گئے ہیں۔
اب تک کے اہم واقعات اور چھاپے
این سی سی آئی اے اور سائبر کرائم کی ٹیموں نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شاہراہِ فیصل اور کلفٹن کی تجارتی عمارتوں میں قائم کال سینٹرز پر چھاپے مارے۔ ان کال سینٹرز کو بظاہر قانونی آئی ٹی اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (بی پی او) کمپنیوں کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، تاہم پس پردہ غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
تکنیکی نگرانی اور گرفتاری
ایجنسی نے جدید ڈیجیٹل فارنزک ٹولز اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کی مدد سے ایسے کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں کیں، جہاں سے غیر ملکی شہریوں، خصوصاً امریکا، کینیڈا اور یورپی ممالک کے باشندوں کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے بہانے اور جعل سازی کے ذریعے لوٹا جا رہا تھا۔
کارروائیوں میں گرفتاریوں کی تفصیلات
مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران اب تک 50 سے زیادہ ملزمان کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں کال سینٹرز کے مالکان، آئی ٹی ڈیولپرز، ہوسٹس اور ٹیلی سیلز کے نمائندے شامل ہیں۔
بعض کارروائیوں کے دوران ایسے تکنیکی ماہرین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو جعلی آئی پی ایڈریسز اور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) کی مدد سے فون کالز کا رخ بیرونِ ملک موڑ رہے تھے۔
کارروائیوں کے دوران این سی سی آئی اے نے بڑی تعداد میں ڈیجیٹل اور الیکٹرانک آلات ضبط کیے، جن میں 100 سے زیادہ جدید لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز، تیز رفتار انٹرنیٹ سرورز، غیر قانونی گیٹ ویز اور جدید نیٹ ورکنگ آلات شامل ہیں۔
فراڈ کالز کے لیے استعمال ہونے والے سیکڑوں جی ایس ایم (GSM) سم کارڈز اور اسمارٹ فونز بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی شہریوں کے کریڈٹ کارڈز، سوشل سیکیورٹی نمبرز اور ذاتی معلومات پر مشتمل اہم فائلیں بھی ضبط کی گئی ہیں۔
ان کارروائیوں کا مقصد کیا ہے؟
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر سائبر فراڈ اور کال سینٹرز کے ذریعے ہونے والی جعل سازی کا مرکز بننے سے روکنا ہے۔
اس کے ساتھ قانونی طور پر کام کرنے والی آئی ٹی کمپنیوں اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (بی پی او) کی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا بھی مقصود ہے تاکہ ملکی معیشت کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
مالیاتی جرائم اور منی لانڈرنگ کا خاتمہ
کرپٹو کرنسی اور حوالہ ہنڈی جیسے غیر قانونی ذرائع سے رقوم پاکستان منتقل کرنے یا بیرونِ ملک بھجوانے کے راستے بند کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا اور مالی معلومات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ قانونی طور پر رجسٹرڈ اور شفاف انداز میں کام کرنے والی کمپنیوں کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا، تاہم دھوکا دہی اور جعل سازی میں ملوث کسی بھی شخص کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔











