امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام، خفیہ تنصیبات، آلات اور سائنس دانوں سے متعلق حساس معلومات فراہم کرنے والے افراد کے لیے 20 ملین ڈالر تک انعام اور محفوظ مقام پر پناہ دینے کی پیشکش کی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق یہ پیشکش محکمہ خارجہ کے انعامی پروگرام ’ریوارڈز فار جسٹس‘ کے تحت کی گئی ہے، جس کے ذریعے ایران کے جوہری ڈھانچے اور اس سے وابستہ سرگرمیوں کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایران کی جوہری تنصیبات اور سائنسدان امریکی انٹیلی جنس کے ہدف
سینٹکام نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنے والے افراد کو مالی انعام کے علاوہ کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کردیا، تہران نے حملہ کیا تو سخت جواب دیں گے، امریکا
امریکی پیشکش میں ایران کی جوہری تنصیبات، متعلقہ آلات، تکنیکی سازوسامان اور جوہری پروگرام سے وابستہ سائنس دانوں کے بارے میں معلومات کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔
Rewards for Justice is offering a reward of up to $20 million and possible relocation for information about Iran’s nuclear program, including its facilities, equipment, and associated personnel, such as those in the scientific community, or the movement of any of the above.
Submit a tip: https://t.co/A8uRQJSosj
— U.S. Central Command (@CENTCOM) November 7, 2026
تاہم امریکی حکومت نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ کون سی مخصوص معلومات فراہم کرنے پر زیادہ سے زیادہ 20 ملین ڈالر کا انعام دیا جائے گا اور اس کے حصول کے لیے کیا شرائط مقرر ہوں گی۔
1984 میں قائم امریکی انعامی پروگرام کا مقصد کیا ہے؟
’ریوارڈز فار جسٹس‘ امریکی محکمہ خارجہ کا ایک خصوصی انعامی پروگرام ہے، جس کا قیام 1984 میں عمل میں آیا تھا۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد ایسی خفیہ معلومات حاصل کرنا ہے جو امریکی شہریوں کے تحفظ، قومی سلامتی اور امریکی مفادات کو لاحق خطرات سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو سکیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تازہ پیشکش بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے واشنگٹن تہران کی جوہری سرگرمیوں، تنصیبات اور متعلقہ افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔
آئی اے ای اے کی نگرانی میں تعطل، امریکا کا ایران پر اعتراض
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے اعلان میں ایران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے حفاظتی معاہدوں سے متعلق ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا حوالہ دیا ہے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ایران کی جانب سے ان ذمہ داریوں کی عدم تکمیل کے باعث آئی اے ای اے ایران میں تیار ہونے والے اہم جوہری اجزا اور ان کے ذخیرے سے متعلق معلومات کا تسلسل برقرار رکھنے سے محروم ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات، ایٹمی پروگرام اور پابندیاں مرکزی نکات
ان اہم اجزا میں یورینیم کی افزودگی کے لیے استعمال ہونے والی سینٹری فیوج مشینیں بھی شامل ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معلومات کے اس تسلسل میں تعطل کے باعث ایران کے جوہری پروگرام اور اس سے متعلق اہم سازوسامان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
ٹرمپ کے ایران کا جوہری پروگرام تباہ کرنے کے دعوے کے باوجود انعام کا اعلان
امریکی انعامی پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی فوجی حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو مؤثر طور پر تباہ کر دیا ہے۔
جمعے کی شب فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی نے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ طور پر تباہ کن صورت حال کو روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم نے ایران کو نشانہ نہ بنایا ہوتا تو آج اسرائیل کا وجود موجود نہ ہوتا۔‘
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر تہران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرتا اور پورے مشرق وسطیٰ کو تباہ کر دیتا۔
واشنگٹن کی ایران کے جوہری ڈھانچے میں مسلسل دلچسپی
صدر ٹرمپ کے فوجی کارروائیوں سے متعلق دعوؤں کے باوجود ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے 20 ملین ڈالر تک انعام کی پیشکش امریکی حکومت کی مسلسل دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایٹمی پروگرام مکمل کرنے کے لیے امریکا کو 18 ماہ الجھائے رکھا، بیگم عابدہ حسین
اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کی جوہری تنصیبات، تکنیکی آلات، جوہری سرگرمیوں اور ان سے وابستہ سائنس دانوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔
معلومات فراہم کرنے والوں کو مالی انعام کے ساتھ محفوظ مقام پر منتقلی کی پیشکش بھی امریکی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
یوں امریکی انعامی اعلان ایک جانب ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی اور اس سے متعلق خفیہ معلومات کے حصول کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے تو دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری تنازع کی حساسیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔











