’باپ کی آنکھ دیکھ کر بچے سہم جاتے ہیں ‘، بلوچستان عوامی پارٹی کے مطلوبہ انتخابی نشان پر دلچسپ تبصرے

منگل 11 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انتخابات میں امیدواروں کے لیے انتخابی نشانات کی بہت اہمیت ہوتی ہے کیونکہ یہ انتخابی نشانات امیدواروں کی شناخت کا ذریعہ بنتے ہیں۔

امیدواروں کو الاٹ کیے گئے بعض انتخابی نشانات اتنے دلچسپ ہوتے ہیں کہ ان میں مزاح کا پہلو بھی اجاگر ہو جاتا ہے، لوگ اپنے اصل ناموں کی بجائے انتخابی نشانات سے مشہور ہوتے ہیں۔ اور اسی بنیاد پر اکثر ان کے نام بھی پڑ جاتے ہیں۔

کچھ انتخابی نشانات تو ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ  کوئی بھی خود کو پیش کرنا پسند نہیں کرتا۔

لیکن حال ہی میں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) نے آئندہ انتخابات میں اپنا انتخابی نشان تبدیل کرنے اورآئندہ انتخابات میں ’گائے‘ کی بجائے ’انسانی آنکھ‘ کے نشان پر حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اس کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی نے الیکشن کمیشن میں درخواست بھی جمع کرا دی ہے۔

ان کے اس فیصلے کے بعد سماجی رابطوں کی سائیٹ ٹوئٹر پر صارفین نے ردعمل دیا۔

محسن رضا نامی صارف نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آنکھ‘ کی بجائے ’مارخور‘ نشان رکھ لیتے تو زیادہ واضح ہوتا۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ مشکل ہے الیکشن کمیشن بلوچستان عوامی پارٹی کو ’آنکھ‘ کا نشان الاٹ کرے۔

ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ صرف ایک آنکھ؟ ’باپ کی ایک آنکھ سے بچے سہم جانے چاہییں‘۔

واضح رہے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) 2018 کے عام انتخابات سے قبل وجود میں آئی تھی اور ایک بڑی قوت بن کر ابھرنے کے بعد صوبے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان