آسکر ایوارڈ یافتہ بھارتی فلم ایلیفینٹ وسپررز کے قبائلی کرداروں کو فلمساز سے کیا شکایت ہے؟

جمعرات 10 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسکر ایوارڈ یافتہ بھارتی فلم ’ایلیفنٹ وسپررز‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے قبائلی جوڑے نے فلم ڈائریکٹر اور کمپنی کے خلاف عدالت میں کیس دائر کردیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ جوڑے نے الزام عائد کیا ہے کہ فلم کے ہدایت کار اور فلمساز کمپنی نے ان کے ساتھ غیرمناسب سلوک کیا۔ ایلیفنٹ وسپررز نامی یہ فلم اس سال بہترین ڈاکومینٹری شارٹ فلم کی کیٹیگری میں آسکر ایوارڈ جیتنے والی پہلی ہندوستانی فلم بنی تھی۔

فلم کی کہانی بومان اور بیلی نامی ایک مقامی جوڑے کی گرد گھومتی ہے جو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں موجود مدومالائی ٹائگر ریزرو میں ایک زخمی او بےسہارہ ہاتھی کا خیال رکھتا ہے۔

فلم میں متاثرکن اداکاری کی وجہ سے بومان اور بیلی کو زبردست شہرت حاصل ہوگئی۔ فلم کے سیٹ کا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دورہ کرکے جوڑے سے ملاقات کی  تھی جب کہ تامل ناڈو کے وزیراعلیٰ نے انہیں نقد انعام بھی دیا تھا۔

البتہ اب اس جوڑے نے فلم کے ہدایت کار، کارٹیکی گونسالوس اور سِکھیہ انٹرٹینمنٹ کے خلاف عدالت کی طرف رجوع کرلیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں فلم میں کام کی مناسبت سے معاوضہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی فلم کپنی نے انہیں گھربناکر دیا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔

بی بی سی کے مطابق جوڑے نے کمپنی سے 20 لاکھ روپے ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم فلم کے ہدایت کار گونسالوس نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے اسے من گھڑت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس فلم میں اپنا کردار ادا کرنے والے تمام لوگوں کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس جوڑے کا تعلق تامل ناڈو کے ایک مقامی قبیلے کٹونایاکان سے ہے جو نسل در نسل علاقے کے جنگلات میں رہتا آرہا ہے اور جن کی وجہ سے علاقے کا قدرتی حسن بھی بحال ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp