مولانا فضل الرحمٰن سے پی ٹی آئی وفد کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

جمعرات 26 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے 2 رکنی وفد اور جعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان انتہائی اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں ایک نئے سیاسی اتحاد کی تجویز پرغور کیا گیا جب کہ نئے سیاسی اتحاد کے لیے پی ٹی آئی وفد نے مولانا فضل الرحمٰن سے مزید وقت مانگ لیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے وفد میں اسد قیصر، علی محمد خان شامل تھے جنہوں نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی۔ تینوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں دو طرفہ امور اور ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

پی ڈی ایم طرز کے نئے سیاسی اتحاد پر غور

ذرائع نے بتایا ہے کہ  پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے وفد کے ساتھ ملاقات میں آئندہ عام انتخابات سے متعلق تفصیلی مشاورت کی گئی، ملاقات میں پیپلز ڈیموکریٹک الآئنس (پی ڈی ایم ) طرز پر نئے سیاسی اتحاد کی تجویز پر غور کیا گیا ہے، جب پی ٹی آئی وفد نے نئے سیاسی اتحاد کے لیے چیئرمین پی ٹی سے مشاورت کے لیے مولانا فضل الرحمٰن سے مزید وقت مانگ لیا۔

سیاسی اتحاد کے لیے مکمل مینڈیٹ لے کر آئیں، مولانا فضل الرحمٰن

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے یقین دھانی مانگتے ہوئے پی ٹی آئی وفد سے کہا کہ وہ سیاسی اتحاد کے لیے مکمل مینڈیٹ لے کر آئیں۔ نئے سیاسی اتحاد میں پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں کو بھی شامل کرنے پر غور کیا گیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ ملاقات میں انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کے لیے مساوی مواقع کے لیے سیاسی جدوجہد پر بھی اتفاق کیا گیا۔ جب کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان جلد دوبارہ ملاقات ہوگی۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وفد اور مولانا فضل الرحمٰن کی ملاقات محمد علی درانی کی کوششوں سے ممکن ہوئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

اولمپک گولڈ میڈلسٹ کے گھر چوری، ڈاکو 1980 کا تاریخی طلائی تمغہ بھی لے اڑے

یوکرین میں امدادی مرکز پر روسی بمباری، ہلاکتیں 40 تک پہنچ گئیں

ٹرمپ کو انتخابی دھچکا، ایران، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کا امکان

ٹیکساس میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کا اعلان، اربوں ڈالر کے منصوبے غیر یقینی کا شکار

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا