گزشتہ ماہ کی 21 تاریخ کو سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن میں لگ بھگ 4 سال کی جلا وطنی کاٹ کر وطن واپس پہنچے تھے۔ بظاہر تو وہ 2019ء میں علاج کی غرض سے لندن گئے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے خلاف چلنے والی عدالتی اور انتقامی کاروائیوں سے تنگ آ گئے تھے کیونکہ انہیں العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 7 سال قہد کی سزا سنائی تھی اور وہ اڈیالہ جیل میں یہ سزا کاٹ رہے تھے۔
اس سے قبل بھی نواز شریف کو جبری جلاوطنی کا سامنا رہا جب جنرل پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر ان کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات چلائے اور انہیں جیل بھیجا۔ بالآخر فوجی آمر کے ساتھ ڈیل کے بعد وہ بیرون ملک جلاوطن ہوئے۔
2008ء کے انتخابات سے قبل سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا اور 10 ستمبر 2007ء کو 7 برس کی جلا وطنی کا خاتمہ کر کے راولپنڈی میں قائم فضائی اڈے پر پہنچے۔لیکن جونہی وہ طیارے سے باہر نکلے انہیں حراست میں لے لیا گیا اور کچھ ہی گھنٹوں بعد ایک خصوصی طیارے کے ذریعے واپس جلا وطن کر دیا گیا۔
نواز شریف نے وطن واپسی کی دوسری کوشش 25 نومبر 2007ء کو کی اور شہباز شریف اور اہل خانہ سمیت لاہور ایئر پورٹ پہنچے ۔ اس مرتبہ انہیں روکا نہیں گیا ۔ ان کی سیاسی جماعت نے 2008ء کے انتخابات میں حصہ لیا اور پنجاب میں حکومت بنائی۔
آج خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
سال 1988ء میں آج کے دن ترکیہ کے وزیر اعظم میسوت یلماز کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی جس کے بعد یلماز نے صدر کو اپنا استعفیٰ جمع کرایا تھا۔ اُن پر ترک بینک کی 600 ملین ڈالر کی فروخت میں گڑ بڑ اور ترک مافیا کے ساتھ روابط کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
25 نومبر 1974ء کو صدر فضل الٰہی نے راولپنڈی میں سپریم کورٹ کی عمارت کا افتتاح کیا۔
سال 1984ء میں آج کے روز جاوید میانداد نے نیوزی لینڈ کے خلاف حیدرآباد میں کھیلے گئے 1000ویں ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سنچری سکور کی۔














