معروف بنگلہ دیشی فوٹو جرنلسٹ پر یہود مخالفت کا الزام، یورپ میں نمائش منسوخ

جمعہ 1 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اکتوبر کے اوائل میں جب اسرائیل نے غزہ پر بمباری کا آغاز کیا تو معروف بنگلہ دیشی فوٹو جرنلسٹ شاہد العالم جرمنی میں ایک پہلے سے طے شدہ فوٹوگرافی کی نمائش میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ شریک تھے، فکر مندی محسوس کرتے ہوئے، انہوں نے گنجان آباد فلسطینی انکلیو پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔

غزہ پر اسرائیلی بمباری کے بعد سے انعام یافتہ بنگلہ دیشی فوٹو جرنلسٹ نے اپنے ایک لاکھ سے زائد فالورز کو فیس بک پر درجنوں بار تنازعہ کے بارے میں اپنے خیالات سے آگاہ رکھنے کے لیے پوسٹ کی ہیں۔

8 اکتوبر کو اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’نیم برہنہ اسرائیلی لاشوں کی پریڈ ہونے کی خبریں خوفناک ہیں اور اس کو درست نہیں قرار دیا جا سکتا … میں محسوس کرتا ہوں کہ تمام فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی زندگیاں تباہ ہو گئی ہیں۔‘

29 اکتوبر کو اپنی ایک اور پوسٹ میں شاہد العالم نے لکھا کہ اس ہفتے کے آخر میں ہونے والا ہولناک تشدد اسرائیلی نسل پرستی کی بدصورت حقیقت اور بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم بے وطن لوگوں پر کئی دہائیوں کے قبضے کا سڑا ہو پھل ہے۔

میں صیہونی مخالف ہوں جس کا مطلب ہے کہ میں استعمار، آبادکاری، نسل پرستی اور نسل کشی کے خلاف ہوں، معروف انعام یافتہ بنگہ دیشی فوٹو جرنلسٹ اور انسانی حقوق کے علمبردار شاہدالعالم (فائل فوٹو)

21 نومبر کو، جرمن بی اینالے فور کنٹیمپری فوٹوگرافی نے اسی معروف اور تجربہ کار بنگالی فوٹو جرنلسٹ کو یہود دشمنی کا الزام لگاتے ہوئے ڈراپ کردیا، بی اینالے  کے اعلامیہ کے مطابق، 7 اکتوبر کے بعد شاہد العالم کی مختلف پوسٹس نے اپنے فیس بک چینل پر  ایسے مواد کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، جسے یہود مخالف اور یہود مخالف مواد کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔

شاہد العالم کے دو بنگلہ دیشی شریک کیورٹرز، تنظیم وہاب اور منعم واصف، بھی شاہد العالم کے ساتھ یکجہتی کے طور پر مستعفی ہو گئے، جس سے منتظمین کو اگلے سال جرمنی کے 3 شہروں کے نمائشی دورے کو ختم کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

جرمن منتظمین کے مطابق مبینہ طور پر یہود مخالف پوسٹس میں ’شاہد کا بنگلہ دیش میں فلسطینی سفیر کے ساتھ غیر تبصرہ شدہ انٹرویو، ہولوکاسٹ کے ساتھ موجودہ جنگ کا موازنہ، اور غزہ میں فلسطینی آبادی کے خلاف ریاست اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کے الزامات شامل تھے۔

انہوں نے یہ بھی شکایت کی کہ شاہدالعالم نے اپنے صفحہ سے اسرائیلیوں کے خلاف ’نسل پرستانہ اور دیگر تقابلی تبصروں‘  کو بھی حذف نہیں کیا ہے، جو بظاہر ان کے کچھ فالوورز نے کیے تھے۔

عالم، وہاب اور واصف ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، گزشتہ روز اپنے مشترکہ بیان میں ان کا موقف تھا کہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم یہ فیصلہ کریں کہ ہم تاریخ کے کس رخ پر کھڑے ہوں گے۔

الجزیرہ سے گفتگو میں شاہد العالم کا کہنا تھا کہ وہ ایک صیہونی مخالف ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ استعمار، آبادکاری، نسل پرستی اور نسل کشی کے خلاف ہیں۔ ’میں یہود مخالف نہیں ہوں، یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ جرمنی ان دونوں کو آپس میں خلط ملط کرکے سفید فام بالادستی کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے۔‘

شاہدالعالم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیخلاف اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے میں کبھی نہیں ہچکچائے، 2018 میں ٹائم میگزین نے انہیں ان کے کئی عشروں پر محیط کریئر کے دوران بنگلہ دیش میں سیاسی بدامنی کو عکس بند کرنے پر خراج تحسین پیش کیا تھا، اسی سال انہیں وزیر اعظم شیخ حسینہ پر تنقید کی پاداش میں 100 سے زائد دنوں کے لیے حراست میں بھی رکھا گیا تھا ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان