بلوچستان کی کون سی اہم سیاسی شخصیات پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہی ہیں؟

جمعہ 1 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک کا پسماندہ ترین صوبہ بلوچستان اس وقت مرکز کی سیاست کا محور بنا ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان مسلم لیگ ن نے صوبے کی 30 سے زائد اہم سیاسی اور قبائلی شخصیات کو اپنی جماعت کا حصہ بنایا جبکہ اس کے علاوہ جمعیت علماء اسلام ف، نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد سمیت سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی حامی بھری تاہم اب پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی صوبے کے اہم رہنماؤں کو اپنی جانب راغب کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

2 روز قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری سمیت اہم مرکزی اور صوبائی قائدین نے بلوچستان کا رخ کیا جہاں گزشتہ روز پی پی پی نے یوم تاسیس کی مناسبت سے جلسہ عام کا انعقاد کیا اور بعد ازاں سیاسی پرندوں کو اپنے گھونسلے میں آنے کی دعوت دینی شروع کردی۔

آصف علی زردری اور بلاول بھٹو زرداری بلوچستان کی اہم سیاسی شخصیات کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لیے سرگرداں ہیں۔ ان کاوشوں کے سبب پاکستان تحریک انصاف کے سابق پارلیمانی لیڈر سابق صوبائی وزیر نصیب اللہ مری، بلوچستان عوامی پارٹی کے سابق صوبائی سرفراز ڈومکی، باپ پارٹی کی ثمینہ خان، حربیار ڈومکی، ولی خان اچکزئی اور علاؤالدین کاکڑ بھی پیپلزپارٹی کو پیارے ہو گئے۔

 سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو  نے بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کردیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز یوم تاسیس کے کوئٹہ کے جلسے پر قیادت کو مبارکباد بھی پیش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ تاریخی جلسے نے ثابت کردیا کہ بلوچستان کے عوام کی امیدیں پیپلزپارٹی سے وابستہ ہیں اور پیپلزپارٹی اچھی پوزیشن کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے ہمراہ باپ پارٹی کے دیگر سابق ارکان پارلیمنٹ بھی جلد ہی باضابطہ طور پر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔

اس کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی باپ کے بانی رہنما سعد احمد ہاشمی اور ان کی اہلیہ رقیہ ہاشمی نے بھی آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے جو اس بات کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ یہ دونوں رہنما بھی جلد پپیپلز پارٹی میں شامل ہوجائیں گے۔

پیپلز پارٹی سیاسی جماعتوں سے اتحاد انتخابات کے بعد کرے گی، فیصل کریم کنڈی

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پیپلزپارٹی سیاسی جماعتوں سے اتحاد عام انتخابات سے پہلے نہیں بلکہ اس کے بعد ہی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے وزیراعظم کے امیدوار بلاول بھٹوزرداری ہیں۔

ن لیگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ووٹ کو عزت دینے کی بات کرنے والی پارٹی اپنے بیانیے سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔

ہم بلوچستان انتخابی ٹکٹ کا جمعہ بازار لگانے نہیں آئے، شیری رحمان

دوسری جانب وی نیوز کو دیے گیے خصوصی انٹرویو میں پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ ہم بلوچستان میں اپنے لوگوں اور ورکرز سے ملاقات کے لیے آئیں ہیں نہ کہ یہاں الیکشن ٹکٹ کا جمعہ بازار لگانے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بلوچستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے اور ایک بار پھر الیکٹیبلز کا پیپلز پارٹی میں شامل ہونا صوبے میں جماعت کو مستحکم کر رہا ہے۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ بلوچستان میں کون سی سیاسی جماعت زیادہ نشستیں حاصل کرکے حکومت تشکیل دے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان